امریکا میں بھارتی آئی ڈراپس کے باعث 4 افراد ہلاک، 18 بینائی سے محروم ہوگئے

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ساختہ بیکٹریا سے آلودہ آئی ڈراپس کے باعث امریکا میں کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 18 بینائی سے محروم ہوگئے۔ کچھ عرصے قبل پہلے بھارتی کمپنیوں کے تیار کردہ کھانسی کے سیرپ دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں کی اموات کا باعث بنے تھے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مئی 2022ءمیں مختلف ریاستوں میں Pseudomonas aeruginosa نامی بیکٹریا کے پھیلاو¿ کا انکشاف ہوا تھا۔ یہ بیکٹریا جسم کے ہر اس حصے میں پھیل سکتا ہے جو کمزور ہو چکا ہو اور اکثر کیسز میں جان لیوا ثابت ہو تا ہے۔ یہ بیکٹریا اینٹی بایوٹیک ادویات کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی صحتیابی مشکل ہوتی ہے۔ اس بیکٹریا کے پھیلاﺅ کے بعد سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ Prevention (سی ڈی سی) کی جانب سے اس کے ماخذ کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ سی ڈی سی کو بیکٹریا کے پھیلاﺅ کی وجہ جاننے میں 8 ماہ کا عرصہ لگا اور انکشاف ہوا کہ ایسا بھارتی ساختہ آئی ڈراپس کے باعث ہورہا ہے۔ سی ڈی سی نے دریافت کیا کہ بیکٹریا کو پھیلانے والے 2 بھارتی ساختہ آئی ڈراپس معروف برانڈز کے مقابلے میں 50 فیصد کم قیمت پر دستیاب تھے۔ ان آئی ڈراپس کو فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے جاری کردہ انونٹری نمبروں کے ڈبوں میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ سی ڈی سی نے دریافت کیا کہ ان آئی ڈراپس کو ٹیسٹنگ اور معائنے کے بغیر استعمال کیا جا رہا تھا۔ بھارتی فیکٹری میں تیاری کے دوران ممکنہ طور پر یہ آئی ڈراپس بیکٹریا سے آلودہ ہوئے۔ دوسری جانب بھارتی دوا ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ آئی ڈراپس کی ٹیسٹنگ میں کوئی بیکٹریا ظاہر نہیں ہوا تھا، اس معاملے پر ایف ڈی اے کے ساتھ تعاون کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں