کوئٹہ اور تربت کے بعد گوادر میں بھی خواتین پولیس تھانے کا قیام، آئی جی نے افتتاح کردیا
گوادر (یو این اے) آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے بلوچستان کے تیسرے خواتین تھانے کا افتتاح کردیا،گوادر میں قائم خواتین پولیس تھانے کی افتتاح کردی گئی اس سے قبل کوئٹہ اور تربت میں بھی خواتین پولیس تھانے قائم کردیئے گئے ہیں ڈی آئی جی پولیس مکران رینج مسرورعالم کولاچی اور ایس ایس پی پولیس گوادر محمدجواد طارق کی سربراہی میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں وومن پولیس تھانے بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور پولیس میں خواتین کی نمائندگی انتہائی اہمیت رکھتا ہے انہوں نے کہاکہ اس سے قبل کوئٹہ اور تربت میں بھی خواتین پولیس تھانے کھول دیئے گئے ہیں جہاں پر تمام اسٹاف خواتین پر مشتمل ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے کالج اور یونیورسٹیوں کے سروے کیئے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی خواتین پولیس میں آجائیں خواتین بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور انکی ایک بڑی تعدادہے اور انکے بھی مساوی حقوق ہیں اور خواتین کے کافی مسائل بھی ہیں جنہیں حل کرنے کے لیئے ہماری خواتین پولیس انتہائی اہم ہے انہوں نے کہاکہ ہم خواتین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ پولیس کے شعبے میں خود کو محفوظ سمجھیں اس شعبے میں اقلیتی برادری کو بھی آنا چاہیے انہوں نے کہاکہ خواتین ملک کے ہرشعبے میں بہترین کردارادا کررہی ہیں اور خواتین پولیس تھانے قائم کرنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ ایک عورت ہی دوسرے عورت کے مسائل کو بہتر سمجھ سکتی ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں مرد اپنی خواتین کو ڈاکٹری کے شعبے میں بھیجتے ہیں انہیں ٹیچربناتے ہیں لیکن انہیں پولیس کے شعبے میں کم بھیجتے ہیں انہوں نے کہاکہ جن خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو وہ مردپولیس سے زیادہ اپنی شکایت خواتین پولیس سے بہتر اندازمیں بتاسکتی ہیں کیونکہ ایک عورت بس ایک عورت کے مسائل کو زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہے اانہوں نے کہاکہ وومن پولیس اسٹیشن کے قیام میں ہمیں کسی بھی طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑا ہے اور ابھی بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں ہے کہ ہمیں وومن پولیس اسٹیشن سے کسطرح مددمل سکتی ہے جیسے جیسے یہ مثالیں سامنے آئیگی کہ کسی خاتون کے ساتھ اچھا رویہ نہیں کیا گیا اور انہوں نے وومن پولیس تھانے میں جاکر شکایت کی اور وہاں موجود خاتون پولیس افسر نے بڑی محنت سے اسکے ساتھ تعاون کیا جس کو اس خاتون کو انصاف ملا تو اسطرح سے وومن پولیس تھانوں کا کرداربھی بڑھے گا۔


