کوئٹہ شہر میں فی کلو چینی کی قیمت میں 170 سے 180 روپے فی کلو اضافہ کر دیا

کوئٹہ/ چمن(یو این اے )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شہر میں فی کلو چینی کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے چینی170 سے 180 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہیں مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر چینی کی قیمت میں ہوشربااضافہ کر دیا گیاہول سیل مارکیٹ میں ایک ماہ میں چینی کی قیمت میں فی کلو50 روپے کا بڑا اضافہ ہواجس کے بعد چینی 170 روپے سے 180 روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے چینی کی 100 کلو والی بوری کی قیمت 11500 سے بڑھ کر 13600 روپے تک پہنچ گئی ہے وزیراعظم کا چینی بحران کا نوٹس لینے، چاغی کےراستے افغانستان اسمگلنگ روکنےاور ملوث افسروں کےخلاف کارروائی کرنے کےسلسلے میں حکومت بلوچستان کےاٹھائےجانےوالے اقدامات کےنتیجے میں افسروں کے ساتھ ملکر مافیاز کی بڑےپیمانے پر بین الاضلاع چینی کی اسمگلنگ کا انکشاف ہواہے،چمن کےڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی انکشاف کیاہے کہ ہرمہینے سوسے 2سو ٹرک چینی لیویز گڑنگ جوائنٹ چیک پوسٹ پر پیسہ دیےکر چمن میں فروخت کرنے کےلیے لاتے ہیں یا پھر چمن ہی میں اسمگلروں سے چینی کےٹرک خریدتے ہیں جس کے باعث شہری 170روپے فی کلوچینی خریدنے پر مجبورہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 2 اپریل کوچاغی کے راستے افغانستان کو چینی ٹرکوں کے قافلے افغانستان اسمگلنگ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملوث آفسران کے خلاف کارروائی کرکےچینی کی فی کلو قیمت واپس 80روپے پر لانے کی ہدایات دی تو اس سلسلے میں بلوچستان حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کےساتھ مشاورت کرکے اندرون صوبہ چینی کنٹرول کرنے کے لئے اہم قومی شاہراہوں پرلیویز،کسٹم، ایف سی ودیگر اداروں پر مشتمل مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی اور سرحدی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو چینی ڈیلرز رجسٹرڈ کرکے ماہانا کوٹہ فراہم کرنے کے اختیارات دےکر پرمٹ سسٹم نافذ کیاگیا۔ اب اس سلسلے میں انکشاف کرتے ہوئے چینی کےہول سیلرز نے یو این اے سے بات چیت میں بےبسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ پہلے بیرون ملک چینی اسمگل کی جارہی تھی مگر اب بلوچستان حکومت نے کےاقدامات نے اسمگلرز کو چینی اسمگلنگ کے نئے راستے کھول دیے اور عوام اپنے ہی شہر میں چینی اسمگل کرنے پر مجبور کردیے گئے چیک پوسٹوں سے بلوچستان کے سرحدی اضلاع کو بھی ماہانہ کروڑوں روپے رشوت کے عیوض سیکڑوں ٹرک چینی اسمگل ہورہی ہے، چمن چینی رجسٹرڈ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باوجود چینی کی قیمت فی کلو 170روپےسے کم نہ ہوسکی ہے، چمن کے 14 بڑے ہول سیل ڈیلرزنے یو این اے سے بات چیت میں انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ بااثر افراد پابندی اور پرمٹ کافائدہ اٹھاکر اب چمن تک بھی چینی اسمگل کررہے ہیں، ان کاکہناتھا کہ ضلع چمن کے 16بڑے ڈیلرز چمن میں سیل کیلئے ہرمہینے تقریبا 150ٹرک چینی لاتےتھے جنہیں ضلعی انتظامیہ نے کم کرکےصرف 6ڈیلرز کو رجسٹرڈ کرکے ماہانہ 22ٹرک جو 9سوٹن بنتاہے، چینی پرمٹ جاری کرکے گڑنگ جوائنٹ چیک پوسٹ سے چمن تک چینی لانے پر پابندی لگائی ہیں مگر ڈیلرز کو ہرمہینےسیل کیلئے اورچمن میں چینی کی ضرورت کو پوراکرنے کیلئے ہرمہینے سوسے 2سو ٹرک چینی سندھ، پنجاب یا کوئٹہ سے چمن لاتے ہوئے گڑنگ لیویز جوائنٹ چیک پوسٹ پر فی ٹرک کے دو سے تین لاکھ روپے رشوت دینےپڑتے ہیں یا پھر چمن ہی میں اسمگلر مافیاز سے چینی خرید کر شہر میں فروخت کرتے ہیں، صدرچمن ہول سیل ڈیلر کاکہنا تھا کہ وہ اس سے پہلے ہر روز ایک ٹرک اور مہینے میں 30ٹرک چینی لاکر چمن میں فروخت کرتاتھا اب ڈپٹی کمشنر انہیں مہینے کیلئے ایک ٹرک چینی پرمٹ دےرہے ہیں مگر دکانداروں کی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر 29ٹرک چینی اسمگل کر لیویز کو گڑنگ چیک پوسٹ پر رشوت دیکر لاتاہوں یا پھر چمن میں اسمگلروں سے خرید لیتاہوں، ایک ڈیلر نے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ لیویز کی گڑنگ پوسٹ پر رشوت ستانی کا ڈپٹی کمشنر، کسٹم حکام کو علم ہے، چمن کا ہرشہری جانتاہے کہ رات کو ٹرکوں دن میں مسافر بسوں، ویگنوں، پک اپ گاڑیوں میں چینی چمن اسمگل ہوتی ہے مگر بےبس عوام وزیراعظم کے حکم کے باوحود 80روپے کےبجائے فی کلو ڈبل قیمت پر خریدرہے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیاکہ وزیراعظم اسمگلنگ میں ملوث عناصرکے خلاف کاررروائی پرمٹ سسٹم اور چیک پوسٹیں ختم کریں اور سستی چینی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر چمن اسماعیل ابراہیم نے یو این اے سے بات چیت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت پاکستان نے جوائنٹ چیک پوسٹ چمن میں نہیں بلکہ تمام سرحدی اضلاع میں قائم کی ہیں، گڑنگ پوسٹ پر لیویز، کسٹم، ایف سی، ایف سی آئی یو اور انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں تاکہ چینی کوکنٹرول اور مانیٹرکیاجائے، بلوچستان حکومت نے اس سلسلے میں ایس او پیز بنائے تاکہ ڈیلرز کو رجسٹرڈ کیا جائے جو ہم نے کردیاہے اور چمن کا جو کوٹا مختص ہوا ہے اس کوٹے کے مطابق چینی آرہی ہے، ڈی سی کا کہنا تھا کہ دراصل یہاں مسئلہ یہ ہے کہ لغڑی اور خاص کر لغڑی بچے دکانوں سے کلو دو کلو پانچ کلو چینی خرید کر پیدل افغانستان اسمگل کرتے ہیں ہمیں جو کوٹا چمن کیلئے ملتاہے وہ کافی ہے مگر لغڑی بچوں کو استعمال کرکے دو کلو پانچ کلو چینی ان بچوں کے توسط سے پیدل بارڈر کراس کرتے رہے ہیں اس سلسلے میں پچھلے دنوں ہم نے بارڈر پر سختی کی، ایف سی نے بھی اس پر ایکشن لیا ہے بچوں کو پہلے سے بتایا کہ چینی نہ خریدے ہم نہیں چھوڑیں گے تاکہ آپ لوگوں کا نقصان نہ ہو کیونکہ یہ چمن کےعوام کی چینی ہے جو بارڈر کے اس پار جاتی ہے، میری چمن کے عوام سے اور ٹریڈرز سے اپیل ہے کہ ان بچوں کو منع کریں اور ان کو چینی فروخت نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں