کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کو ٹارکٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر پاکستان میں انتشار پیدا کیا جارہا ہے، مجلس وحدت مسلمین
کوئٹہ (آن لائن) مجلس وحدت مسلمین یوتھ ونگ کے رہنماﺅں نائب صدر راجا مصطفی حیدر، کوئٹہ سٹی کے صدر ارباب لیاقت علی نے کہا ہے کہ ملک میں ایک مرتبہ پھر سوچی سمجھی سازش کے تحت مذہبی اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہےں، ہم نے ہمیشہ ملک میں امن و امان اور بھائی چارے کی فضا قائم کر نے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی کر تے رہیں گے۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور کمانڈر 12کور سے مطالبہ ہے کہ ہزارہ ٹاﺅن واقعے میں ملوث اہلکاروں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور سیکورٹی فورسز کے اداروں کی جگ ہنسائی نہ ہو۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کے خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ملک میں ایک مرتبہ پھر سوچی سمجھی سازش کے تحت مذہبی اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہےں۔ کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کو ٹارکٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر ملک میں انتشار پیدا کیا جارہا ہے۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے والوں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ روز ہزارہ ٹاﺅن میں ایک بچی اور نوجوان کے ساتھ بدفعلی کرنے میں ملوث سیکورٹی اہلکاروں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، چند اہلکاروں کی وجہ سے سیکورٹی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ ملک میں امن و امان اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ بلوچستان میں حکومت کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ہمارا فوج کے سربراہ اور کمانڈر 12 کور سے مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاکہ اس طرح کے اقدامات کی روک تھام ہوسکے، بلوچستان کو ایک لیبارٹری بنا کر یہاں کے عوام کو نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے تو ہم کیوں کسی کے لئے اعتراض کریں گے صوبے کے تمام سیکورٹی کے معاملات کو پولیس کے حوالے کیا جائے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو مجبوراً احتجاج کا راستہ اپنائیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔


