وفاق کا بلوچستان کے ساتھ نو آبادیاتی رویہ قابل مذمت ،پسند اور ناپسند سے شدید بداعتمادی پھیلے گی، میر اسرار زہری
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی صدر سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری نے کہا ہیکہ وفاق کا بلوچستان کے ساتھ نو آبادیاتی رویہ قابل افسوس ہے پسند اور ناپسند سے عوام میں شدید بداعتمادی پھیلے گی مرکز نے ہمیشہ بلوچستان کو اسٹرجکلی دیکھا ہے اور وفاقی سیاسی جماعتوں نے بلوچستان کو نظرانداز کیا ہے مشترکہ مفادات کونسل مردم شماری کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں جس میں بلوچستان کی آبادی کو دانستہ طور پر 70 لاکھ کم کی گئی ہےان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ میر اسراراللہ خان زہری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہیکہ حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں وفاق کی جانب سے بلوچستان کی آبادی میں ستر لاکھ سے زائد کی کمی کے غیر منصفانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مردم شماری کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں اور کٹ پتلی صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے آقاؤں کی خوشنودی کی لیے جعلی حکومت نے بلوچستان کے مفادات پر سودے بازی کے روایات کو برقرار رکھا ہے اسلام آباد بلوچستان کو طرز کالونی ڈیل نہ کرے پنجاب کی قومی اسمبلی کی سیٹیں بچانے کیلئے بلوچستان کی آبادی کو دانستہ طور پر کم کردی گئی ہے ریکوڈک سے لے دیگر قدرتی وسائل کو لوٹنے والے بلوچستان کے ساتھ نو آبادیاتی کی رویہ اختیار کیا ہوا ہے جس کی بی این پی عوامی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں میر اسراراللہ خان زہری نے کہا 2023 میں مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی 2 کروڑ 48 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی جسے دانستہ طور پر کم کیا گیا بی این پی عوامی اس اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہیں بی این پی عوامی بلوچستان کے حقوق اور مفادات کی تحفظ کے لئے اپنے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی اور بلوچستان کے ساتھ ناانصافی پر ہرگز خاموش نہیں رہےگی۔


