انتخابات فروری میں ہوں گے، 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کیلئے نرم گوشہ نہیں رکھا جاسکتا، راجا ریاض
اسلام آباد (آن لائن) سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ سینیٹرانوار الحق کاکڑ سے دو ڈھائی سال سے تعلقات اچھے ہیں، میرے ذہن میں تھا چھوٹے صوبے سے نگراں وزیراعظم ہونا چاہیے، دوروز قبل انوار الحق کاکڑ کا نام وزیراعظم کو دیا تھا۔ وزیراعظم سے طے ہوا تھا نگراں وزیراعظم کا نام فائنل نہیں ہوتا، سامنے نہیں لایا جائیگا،نگراں وزیر خزانہ کوئی نہ کوئی معاشی ماہر ہی ہوں گے،الیکشن فروری میں ہوں گے، پی ٹی آئی ہو گی یا نہیں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ راجہ ریاض نے کہا وزیراعظم سے پہلی میٹنگ میں اپنے نام دیئے اور میں نے اپنے نام شیئر کئے۔وزیراعظم نے کہا کہ مشاورت کرکے بتاﺅں گا۔وزیراعظم نے میرے دیئے ہوئے نام پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ وزیراعظم سے پھر طے ہوا دیگر5 لوگوں کے نام سامنے نہیں لائے جائیں گے۔میں نے جو وعدہ کیا تھا پورا کیا،وزیر اعظم مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ہم نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ وزیر اعظم کیلئے دیگر نام سامنے نہیں لائیںگے ۔نگراں وزیراعظم کیلئے اور بھی سیاسی نام تھے۔ انہوں نے کہا نگراں وزیراعظم کے بعد میرا کردار ختم ہو گیا ہے۔انوار الحق کاکڑ ہی بتا سکتے ہیں انہوں نے کابینہ ہمیں کس کو شامل کرنا ہے۔کابینہ میں کون ہو گا انوار الحق کاکڑ جانے اور اسٹیبلشمنٹ جانے ۔ہو سکتا ہے کہ معاشی ماہرین کے نام نگراں کابینہ میں ہوں۔نگراں وزیر خزانہ کوئی نہ کوئی معاشی ماہر ہی ہوں گے۔میرا خیال ہے کہ نگراں وزیر خزانہ ٹیکنوکریٹ ہوں گے۔اسحاق ڈار کا نام شامل نہیں تھا، ن لیگ نے پہلے کہہ دیا تھا۔انہوں نے کہا شاہد خاقان عباسی کا نام نگراں وزیراعظم کیلئے نہیں تھا۔چیئرمین سینیٹ بھی بلوچستان سے، نگراں وزیراعظم بھی اب بلوچستان سے ہیں۔بلوچستان میں احساس محرومی ہے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔بلوچستان سے نگراں وزیراعظم بنا کرو ہم نے احسات محرومی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انوار الحق کاکڑ کا کسی بڑی سیاسی جماعت سے نہیں آئے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا شاہ محمود سے یہ پوچھ لیں وہ کس معاہدے کے تحت پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے لوگ یا جیل میں ہیں یا بھاگے ہوئے ہیں۔قریشی صاحب کا معاہدہ یہی ہے پی ٹی آئی کیلئے کام نہیں کرینگے۔میں نے چیئرمین پی ٹی آئی سے متعلق جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا الیکشن پندرہ فروری 2024کے آس پاس ہوں گے۔مارچ میں سینیٹ الیکشن ہونے ہیں، نئی اسمبلی کے لوگ اس کیلئے ووٹ دینگے۔ الیکشن میں پی ٹی آئی ہو گی یا نہیں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ صدر مملکت کی مدت سے متعلق میری کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا اب مدت پوری ہو گئی ہے فیصلہ کروں گا کہ کس جماعت میں جانا ہے۔ دوستوں، حلقے کے لوگوں سے مشاورت کر کے الیکشن سے متعلق فیصلہ کرونگا۔جو پی ٹی آئی کے دوست تھے ان سے مشاورت کر کے الیکشن کا فیصلہ کرینگے۔مشورہ کریں گے کہ کس پاپرٹی میں جانا ہے یا الائنس میں جانا ہے۔ پی ٹی آئی کا نام انتخابی نشان مجھے بیلٹ پیپر پر نظر نہیں آرہا۔راجہ ریاض نے کہا 9 مئی ، مقبوضہ کشمیر، فارن فنڈ نگ کیس جیسے بہت سے معاملات ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی پر بہت سے الزامات ہیں وہ اس کا جواب نہیں دے رہے ۔کسی بھی جماعت پر پابندی کیخلاف ہوں لیکن پی ٹی آئی نے جو کیا غلط تھا۔نو مئی کو جو کچھ کیا گیا اس کے بعد پی ٹی آئی کیلے نرم گوشہ نہیں رکھا جا سکتا۔پہلے بھی نواز شریف الیکشن سے پہلے آکر جیل چلے گئے تھے۔لگتا ہے اس مرتبہ پھر نواز شریف الیکشن سے پہلے واپس آئیں گے۔


