حیدرآباد سکھر موٹر وے اسکینڈل، 6الگ الگ انکوائریاں یکجا کرکے نیب کراچی کے سپرد

کراچی(این این آئی)حیدرآباد سکھر موٹر وے اسکینڈل کے سلسلے میں 6الگ الگ انکوائریوں کو یکجا کرکے معاملہ صرف نیب کراچی کے سپرد کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حیدرآباد سکھر موٹر کرپشن اسکینڈل کے سلسلے میں نیب کراچی، نیب سکھر، اینٹی کرپشن کراچی، اینٹی کرپشن سکھر، ایف آئی اے کراچی اور سکھر میں الگ الگ تحقیقات کی جارہی تھیں۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں مقدمے کو مضبوط بنانے کیلئے تمام انکوائریز نیب کراچی منقتل کردی گئی ہیں جس پر نیب کراچی نے ملزمان کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ کے مقدمات بھی درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کراچی نے مٹیاری ضلع سے متعلقہ 86کروڑ روپے کیش کی صورت میں جبکہ ایک ارب 20کروڑ روپے سے خریدی گئی ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرلیں ہیں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے موٹروے کیلئے زمین خریداری کی مد میں مٹیاری اور نوشہروفیروز اضلاع کی انتظامیہ کو7ارب سے زائد موصول ہوئے تھے۔ مٹیاری اور نوشہرہ فیروز اضلاع سے مجموعی طور پر خرد برد کی مالیت پونے 5ارب روپے سے زائد ہے۔ مٹیاری ضلع کے بینک اکاﺅنٹس سے 2ارب 37کروڑ روپے کی رقم نکالی گئی جبکہ خرد برد کی گئی رقم کی مالیت ایک ارب 81کروڑ تھی۔ ضلع نوشہرو فیروز سے 3ارب 40کروڑ روپے نکالے جبکہ 2ارب 85کروڑ روپے خرد برد کئے گئے۔ مقدمے میں برآمد اور ضبط شدہ کیش رقم اور ضبط جائیدادوں کی مالیت 2ارب 30کروڑ روپے ہوچکی ہے۔ مقدمے میں دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایک اسسٹنٹ کمشنر سمیت 20ملزمان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں