لکپاس ٹول پلازہ انتظامیہ نے عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دیے، لوکل گاڑیوں سے مکمل وصولی جاری
مستونگ (یو این اے) لکپاس ٹول پلازہ انتظامیہ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے واضح احکامات و آرڈر کو ہوا میں اڑا دیا، ، لوکل ٹرانسپورٹ سے مکمل ٹول ٹیکس وصولی کا سلسلہ بدستور جاری، عوامی حلقوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکپاس ٹول پلازہ پر دھرنا دینے کا عندیہ دے دیا، جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے خاموشی کو افسوسناک قرار دیاواضع رپے کہ گزشتہ دنوں لکپاس ٹول پلازہ پر 24گھنٹے میں ایک بار ٹول ٹیکس لینے کی حوالے سے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلہ اور آرڈر کو لکپاس ٹول پلازہ پر تعینات اہلکاروں نے ردی کی ٹھوکری میں ڈال کر حسب معمول مستونگ کے لوکل ٹرانسپورٹ سے دن میں کہیں مرتبہ ٹول پلازہ سے گزرنے پر مکمل ٹول ٹیکس وصول کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان ہائی کیجانب سے ٹول پلازہ سے 24گھںٹے میں گزرنے والے مقامی ٹرانسپورٹ سے صرف ایک مرتبہ ٹول ٹکیس وصول کرنے کا فیصلہ اور احکامات صادر فرمائے تھے اسکے باوجود ٹول پلازہ اہلکار آرڈر نہ ملنے کا بہانہ کرکے عوام کو لوٹ رہے ہیں جبکہ تمام نوٹیفکیشن وٹس ایپ گروپس میں شئر ہونے کے باوجود لکپاس ٹول پلازہ انتظامیہ عدالتی حکم کو ماننے سے گریزاں ہے حالانکہ تمام دفاتر کو بذریعہ وٹس ایپ نوٹیفکیشن ارسال کئے جاتے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے لیکن لکپاس ٹول پلازہ جو ہر سال جولائی میں اپنے ریٹس بھی بڑھاتا ہے نہ جانے ان ٹول پلازوں سے حاصل ہونے والی رقم کہاں استعمال ہو رہی ہے بلوچستان بھر میں سڑکوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے کوئی ڈبل روڈ تک میسر نہیں روزانہ کی بنیاد پر حادثات ہورہے ہیں عوامی حلقوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور مستونگ ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لکپاس ٹول پلازہ انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے عدالت کے حکم پر فوری طور پر عملدرآمد کروایا جائے۔


