گوادر، جیونی سے بڑے پیمانے پر انسانی اسمگلنگ کا دھندہ ہونے کا انکشاف
گوادر (آن لائن) مکران کوسٹل ہائی وے انسانی اسمگلروں کے لیئے آسان ہدف بن گیا،جیونی سے بڑے پیمانے پر انسانی اسمگلنگ کا دھندہ جاری ہونے کا انکشاف ،ایجنٹ پاکستان بھر سے بیرون ملک جانے والے لوگوں کو بذریعہ مکران کوسٹل ہائی وے جیونی میں جمع کرتے ہیں پھر انہیں سمندری راستے سے ایران پہنچایا جاتا ہے پاکستان کوسٹ گارڑ کا ایک ہفتے کے دوران 400سے زائد لوگوں سمندر پار جاتے ہوئے گرفتار کرنے کا دعوی تفصیلات کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے انسانی اسمگلروں کے لیئے آسان ہدف بن گیا ہے اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ بیرون ممالک جانے کے خواہش مند لوگوں کو بذریعہ مکران کوسٹل ہائی وے جیونی کے مقام پر پہنچا دیتے ہیں جہاں سے انہیں بزریعہ سمندری راستہ ایران لے جایا جاتا ہے واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا میں جیونی کے ساحل کنارے ایک اسپیڈ بوٹ میں بڑی تعدادمیں لوگوں کو غیرقانونی طور پر ایران لے جانے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انسانی اسمگلنگ کے ایجنٹ لوگوں کو اسپیڈ بوٹ میں بٹھا رہے ہیں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان کوسٹ گارڑ جیونی کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ مذکورہ ویڈیو پرانی ہے تاہم پاکستان کوسٹ گارڑ نے اپنے موقف میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 400سے زائد لوگوں کو سمندر پار کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے جبکہ بدھ کے روز بھی ایک کاروائی کے دوران دو کشتیوں میں سوارتقریبا 30 سے زائد غیرمقامی لوگوں کو گرفتار کیاگیااور کشتیوں اور انکے ناخداﺅں کو گرفتار کرکے قانونی کارجوئی کے لیئے ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیاپاکستان کوسٹ گارڑ کے مطابق انکے اہلکار ہرروز غیرمقامی لوگوں کو گرفتار کررہے ہیں انکے مطابق ایک ہفتے کے دوران جیونی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی طرف سے جیونی کے سمندر کنارے چھاپہ مارنے پر 400 سے زائد غیرمقامی لوگوں کو سمندر پار جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کے زیادہ تر کیسزدوسرے بارڈر پر رپورٹ ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے گوادرنے ایک ماہ کے دوران 76افراد گرفتار کرکے ان پرپاسپورٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے عدالتوں میں پیش کیے ہیں اور جو لوگ غیرمقامی ہوتے ہیں انکے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے ذرائع کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے سے جیونی اور وہاں سے بزریعہ سمندری راستے ایران جانے والے زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو ایران میں مزدوری کرنے کی غرض سے چلے جاتے ہیں ان کے مطابق ابھی چونکہ اربعین(محرم کی چہلم )کی تہوارہونے والی ہے پاکستان کی شعیہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جیونی کے بارڈر سے ایران جارہے ہیں اس سلسلے میں جب ایف آئی اے ذرائع سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے مکران کوسٹل ہائی وے پر انسانی اسمگلروں کے خلاف کاروائی کررہی ہے انہوں نے بتایاکہ جن لوگوں کے پا س سفری دستاویزات نہیں ہوتے ہیں ایف آئی اے انکے خلاف بھرپور کاروائی کررہی ہے ۔ معتبر ذرائع سے ملنے والی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سرگرم عمل انسانی اسمگلر اس غیر قانونی کاروبار سے تقریبا 15 کروڑ ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔


