بولان تا چترال پشتون وحدت ہماری منزل ہے ،خوشحال کاکڑ
لورالائی (آن لائن)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ سبی سے لیکر سوات تک بشمول اٹک میانوالی پشتون قومی خود مختار صوبے کے قیام ، فاٹا علاقوں کی پرانی حیثیت کی بحالی اس دو قومی صوبے میں قومی برابری تسلیم کرنا اور ہر شعبہ زندگی میں پشتونخوا وطن کے عوام کو ترقی و خوشحالی اور پر امن زندگی کے منزل کا حصول ہمارا ہدف ہے۔ اور آزاد افغانستان کے ملی استقلال ، آزادی و سلامتی ، ارضی تمامیت کا دفاع ہر پشتون افغان کا قومی فرض ہے۔ پارٹی نظم وضبط اور اصولوں کی پابندی ہر عہدیدار اور کارکن کے لئے لازمی ہے۔ وہ ضلع لورالائی کے زیر اہتمام کچ علاقائی یونٹ کے کھلے سیشن سے خطاب کر رہے تھے جس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سردار گل مرجان کبزئی ، صوبائی صدر نصر اللہ خان زیرے ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری زمان خان کاکڑ ، نعمت جلالزئی ، غنی فدائی اور ضلع سیکرٹری مصطفی کمال کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر علاقائی ایگزیکٹیو کے انتخاب کے ساتھ حاجی علی محمد ، ملک پارہ الدین آکا ، عیسی خان لالا ، تاج محمد صاحب کی قیادت میں 100 سے زائد افراد نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست اور سیاسی جمہوری جدوجہد کو صرف اسمبلی کی ممبر شپ ، وزارت اور ذاتی و گروہی مفادات کے حصول تک محدود کرنے والے درحقیقت ہمارے وطن انکی حق ملکیت ، حق حاکمیت انکے وسائل اور سیاسی معاشی اور ثقافتی واک و اختیار کے حصول کی جدوجہد سے دستبرداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ پاکستان پانچ قوموں پر مشتمل ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اور ہر قوم ہزاروں سال سے اپنے وطن پر آباد ہے اب تمام قوموں کی قومی برابری ، قومی خود مختاری انکے وسائل پر قوموں کا اپنا کنٹرول اور انکے مادری زبانوں کی سرکاری ، علمی ، دفتری حیثیت تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں آئین و قانون کی حقیقی حکمرانی کو ہر صورت تسلیم کرنا ہوگا۔ اور ملک کو موجودہ بحرانوں سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ 90 دن کے اندر غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کر کے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کی جائے اور آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے ہر ادارے کو اپنے آئینی حدود میں پابند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد ڈیجیٹل مردم شماری بولان تا چترال پشتون عوام کو قابل قبول نہیں ، اور ہمارے دو قومی صوبے کی مردم شماری کی کٹوتی اور بالخصوص پشتون علاقوں کی مردم شماری بین الاقوامی گروتھ ریٹ کے مطابق ہونے کے باوجود کٹوتی ایک صوبے کی بالادستی اور اس کے استعماری طرزِ عمل اور رویے کا ثبوت ہے جس کے ساتھ پی ڈی ایم حکومت اور اتحاد میں شامل سیاسی پارٹیاں بھی زمہ دار ہے۔ حالانکہ پنجاب سے سرائیکیوں کی آبادی کو نکالنے کے بعد ملک میں پشتونوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے ، خیبر پشتونخوا ، فاٹا اور جنوبی پشتونخوا کی صحیح اور شفاف مردم شماری کرانے کے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب سمیت تمام ملک میں دو کروڑ سے زائد پشتون آباد ہے جو اپنے وطن میں دہشت گردی، لاقانونیت ،بدامنی ، غربت بیروزگاری کے باعث اذیت ناک مسافرانہ زندگی پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن دوسری طرف پشتونوں کا تمام وطن معدنی وسائل سے مالا مال اور اس کی سالانہ آمدن اربوں ڈالر ہے جس سے ریاست کے ایک صوبے کے حکمران اور اشرافیہ لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملت کی تاریخ گواہ ہے کہ پشتون افغان غیور ملت نے ہر حملہ آور کا بھرپور مقابلہ کیا ہے اور سکندر یونانی کو بھی یہاں شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا۔ اس وقت ہمارے ملت کی آبادی کم اور وسائل نہ ہونے کے برابر تھے لیکن ہمارے آکابرین نے تاریخ کے ہر دور میں اپنے وطن اور آزادی کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پشتون افغان عوام زندگی کے ہر شعبے میں تنزلی کا شکار ، تباہی و بربادی سے دوچار ، غربت بھوک و افلاس ، جہالت ، پسماندگی ، مسافرانہ زندگی اور بدترین بیروزگاری کو ہماری قسمت بنا دیا گیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ریاستی ظلم و جبر اور ہماری قومی محکومی ، قومی واک و اختیار سے محرومی نے ہمارے غریب عوام سے زندگی جینے کی امید بھی چھین لی ہے۔ لہذا یہ صورتحال متحد و منظم ہو کر قربانیوں سے لبریز سیاسی جدوجہد کو ہر سطح پر تیز کرنی ہوگی چاہے حق و باطل کی اس کشمکش میں جو بھی قربانی دینا پڑے اس سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کانگریس سے لیکر اب تک غیور عوام کی پارٹی میں مسلسل شمولیت اور پارٹی اداروں کی وسیع پیمانے پر فعالیت یہ ثابت کرتی ہے کہ غیور عوام کی ہمدردیاں اور حمایت ہمارے ساتھ ہے۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے غیور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کے لئے ہر سطح پر اپنی اصلاح کرنی ہوگی اور اپنے علمی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ بے لوث خدمت گار بن کر عوام کی خدمت کرنی ہوگی۔


