بلوچستان میں اشیائے خوردونوش لانے والے ٹرکوں سے بھتہ وصولی کا انکشاف

ڈیرہ اللہ یار( این این آئی )سندھ اور پنجاب سے آٹا، چینی اور دیگر اشیاء بلوچستان لے آنے والے ٹرکوں سے بھتہ لینے کا انکشاف، چینی کی اسمگلنگ بھی دھڑلے سے جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اللہ یار کے راستے سندھ اور پنجاب سے چینی کی افغانستان اسمگلنگ کا سلسلہ رک نہ سکا، بلوچستان کے مقامی تاجروں کی گاڑیوں سے بھتہ لینے کا بھی انکشاف ہوا ہے، سندھ بلوچستان کی سرحدی پولیس چوکی شمبے شاہ سے براستہ بائی پاس یومیہ بنیادوں پر سندھ اور پنجاب سے چینی اور آٹے کے درجن بھر ٹریلر اور ٹرکوں کے ذریعے اسمگلنگ جاری ہے جبکہ اندرون سندھ اور جعفرآباد سمیت نصیرآباد سے گندم کی اسمگلنگ بھی دھڑلے کی جا رہی ہے، چینی، آٹے اور گندم کی اسمگلنگ کے باعث جعفرآباد سمیت صوبے بھر میں چینی اور آٹے کی قیمتیں آسمان کو پہنچ گئی ہیں، ڈیرہ اللہ یار میں چینی فی کلو 180 روپے سے تجاوز کر گئی ہے، چینی کا 50 کلو گرام کا تھیلہ 9 ہزار روپے کا ہوگیا ہے، شہر بھر کے ہول سیلرز کی دکانوں پر چینی کا اسٹاک بھی چند روز کا رہ گیا، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے دیہاڑی دار اور متوسط طبقہ پریشان ہو کر رہ گیا ہے، دوسری جانب مقامی تاجروں نے سندھ پولیس، ایکسائز اور محکمہ خوراک سندھ کے عملے پر مقامی تاجروں کے ٹرکوں سے بھتہ وصولی کا بھی الزام عائد کیا ہے، مقامی ہول سیل ڈیلر پہلاج سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ کی شمبے شاہ پولیس چوکی پر تعینات سندھ پولیس، ایکسائز اور محکمہ خوراک کا عملہ سندھ اور پنجاب سے چینی اور آٹا بلوچستان کے شہروں کو لے جانے والے ٹرکوں سے 30 ہزار روپے فی ٹرک بھتہ وصول کرتے ہیں، بھتہ نہ دینے کی صورت میں ڈرائیوروں پر تشدد کیا جاتا ہے اور گاڑیوں کو کئی کئی روز تک روک کر رکھنے سمیت سامان بھی غائب کیا جاتا ہے، کئی بار مقامی انتظامیہ کو تحریری شکایات درج کروانے کے باوجود تدارک نہ ہوسکا، تمام ہول سیلرز بھتہ دینے پر مجبور ہوچکے ہیں، اسی طرح افغانستان اسمگلنگ والی گاڑیوں سے ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی گاڑی بھتہ وصول کیا جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ مقامی ہول سیلرز اب چوری چھپے دیگر اشیاء کے ساتھ 10 سے 12 تھیلے چینی اور آٹا لا کر کاروبار چلا رہے ہیں تاکہ چینی اور آٹے کا بحران پیدا نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں