افغانستان کیساتھ دو طرفہ تجا رتی تعلقات مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، آصف خان درانی
کوئٹہ (آن لائن)وزیراعظم کے نما ئندہ خصوصی برا ئے افغانستان آصف علی خان درانی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجا رتی تعلقات کو مزیدمستحکم کر نے کے لئے کوشاں ہیں،پا کستان کی وسطی ایشائی ریا ستوں کے ساتھ تجا رتی حجم 55ملین ڈالر سے 300ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے،جنگ زدہ افغانستان میں گزشتہ دو سال کے دوران امن و امان کی صورتحال میں بہتری سے دوطرفہ تجا رت میں اضا فہ کیلئے ماحول مزید سازگار ہوا ہے، کا روبا ری سر گر میاں بڑھنے سے دونوں مما لک کے لو گوں کو با عزت روزگا ر کے مواقع میسر آ ئیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران و ممبرا ن کے ساتھ پا ک افغان تجا رتی تعلقات سے متعلق منعقدہ اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم کے نما ئندہ خصوصی برا ئے افغانستان چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ پہنچے تو چیمبر کے صدر حاجی عبداللہ اچکزئی، سینئر نا ئب صدر حا جی آ غا گل خلجی، نا ئب صدر سید عبدالاحد آ غا و دیگر نے انہیں خوش آ مدید کہتے ہو ئے کہا کہ افغانستان جیسے برا در اسلامی ملک کے ساتھ بارڈرپر دوستانہ ماحول ہو نا چا ہئے تا کہ وہاں مو جو د سرما یہ کا ری اور تجا رت کے مواقعوں سے مستفید ہوا جا سکے اگر ہم نے افغانستان میں مو جو د کا روبا ری مواقعوں سے بھر پوراستفادہ نہ کیا تو ان سے خطے کے دوسرے مما لک مستفید ہوں گے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بنکنگ چینل نہ ہو نے کی وجہ سے بارڈر ٹریڈ سے زیادہ با رٹر ٹریڈ کا سہارا لیا جا رہا ہے مگر جب کبھی کبھار بارڈرز پر نا خوش گوار صورتحال پیدا ہو تی ہے تو اس کا سب سے زیا دہ نقصان پا کستانی اور خاص کر بلو چستان کی صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کو ہو تا ہے اوراس کے دوطرفہ تجا رت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو تے ہیں،انہوں نے تجویز دی کہ افغانستان سے مریضوں اور طلبا کو پا کستان آ نے سے نہ روکا جا ئے بلکہ ضلع چمن کے شنا ختی کارڈ زکے حامل افراد اور بو لدک کے تزکیرہ رکھنے والے افراد کو با رڈر پرآ مد و رفت کی اجاز ت دی جا نی چا ہئے کیو نکہ بارڈر کے قریب رہا ئش پزیر افراد کی اراضیا ت،کا روبا ر دونوں مما لک میں ہیں بلکہ ان کی آ پس میں رشتہ داریاں بھی ہے جن کی را ہ میں رکاوٹ نہیں ہو نی چا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے نمائندے کوافغان حکام سے مختلف آ ئٹمز پر عائد ٹیکسز میں کمی کر نے کے لئے با ت چیت کر نے کی بھی تجویز دی اور کہا کہ بلو چستان کی صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کو افغانستان جا نے کیلئے ٹرانسپورٹ را ہداری جا ری کی جا ئے۔انہوں نے بتا یا کہ چمن اور بو لدک سے ہزاروں افراد کا روزانہ کی بنیاد پر با رڈر کراس کر نا معمول کی با ت ہے انہیں پاسپورٹ کی شرط سے استثنیٰ دی جا ئے۔اس موقع پر وزیر اعظم پا کستان کے نما ئندہ خصوصی برا ئے افغانستان آصف علی خان درانی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پا کستان کے دیرینہ مذہبی،سیاسی،اقتصادی اورتجا رتی تعلقات ہیں البتہ افغانستان میں گزشتہ 40سال سے جنگ کی المناک صورتحال کا لو گوں کو سامنا ہے جس سے پا کستان بھی متاثر ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال سے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آ ئی ہے جس سے دوطرفہ تجا رت کیلئے بھی فضا سازگا ر ہو گئی ہے ان کا کہنا تھا کہ وسطی ایشائی ریا ستوں کے ساتھ بھی ہما رے کا روبا ر کا انحصار افغانستان پر ہے پہلے وسطی ایشائی ریا ستوں کے ساتھ پا کستان کا تجا رتی حجم 55ملین ڈالر ز تھا جو اب 300ملین ڈالرز تک پہنچ چکا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس میں شک نہیں کہ ٹیکسز میں اضا فہ اسمگلنگ کا مو جب بنتا ہے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران و ممبران کی جا نب سے جو تجا ویز دی گئی ہیں یا جن مسائل کا ذکر کیا گیا ہے انہیں متعلقہ حکام کے سامنے اٹھا یا جا ئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اقتصادی طو ر پر بھی بہتری آ ئی ہے اور اب تمام ملازمین کوطا لبا ن حکومت کی جا نب سے تنخواہوں کی ادائیگی کی جا رہی ہے اس سلسلے میں پہلے افغان حکومت کو امریکہ سے مدد لینا پڑتی تھی۔ان کا کہنا تھا افغانستان میں جنگ کی وجہ سے پا کستان کے افغانستان سے ملحقہ علاقوں کے لو گ بھی بری طرح تھے اب وہاں مو جو د تجا رتی مواقعوں سے بھی انہیں استفادہ ملنا چا ہئے ان کا کہنا تھا کہ جب تجا رتی سرگر میوں میں اضا فہ ہو تا ہے تو اس سے لو گوں کو با عزت روزگا ر کے مواقع میسر آ تے ہیں۔ آخر میں چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کی جا نب سے مہمان کو یا د گا ری شیلڈ پیش کی گئی۔


