نیشنل ادبی مجلس دالبندین کے زیرِ اہتمام علمی و ادبی فیسٹیول کا انعقاد

دالبندین (یو این اے) ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین میں نیشنل ادبی مجلس دالبندین کے زیرِ اہتمام ایک علمی و ادبی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ یہ فیسٹیول دالبندین میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا۔ نیشنل ادبی مجلس کے عہدیداروں اور کارکنو ں نے منظم انداز میں اس کا اہتمام کیا تھا۔ یہ فیسٹیول پانچ نشستوں پر مشتمل تھا جن میں تین مباحث، ایک مشاعرہ اور ایک میوزیکل پروگرام شامل تھے مگر گذشتہ دنوں مستونگ میں ہونے والے المناک سانحہ کی وجہ سے میوزیکل پروگرام کو کینسل کیا گیا اور چار سیشنوں تک پروگرام کو محدود کیا گیا۔ پہلے تین سیشن پینل ڈسکشن پر مشتمل تھے جن میں بلوچی و براہوئی زبان و ادب، دالبندین میں علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی حالات کے تجزیے اور بلوچستان کی تاریخ کے مختلف پہلووں اور اس کے پڑھنے کی ضرورت اور اہمیت پر گفتگو شامل تھے۔ جبکہ چوتھا سیشن مشاعرے پر مشتمل تھا جس میں مکران اور رخشان ڈویڑن کے شعرا کرام مدعو تھے۔ پہلے سیشن میں بلوچستان یونیورسٹی کے بلوچی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر زاہددشتی کی میزبانی میں بلوچستان میں بولی جانے والی زبانوں کی نوعیت، ساخت، ترقی و ترویج کی ضرورتوں پر سیر حاصل بحث کی گئی اور ان زبانوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا۔ اس پہلے سیشن کے مباحثے میں بلوچستان یونیورسٹی کے استاد اور بلوچی زبان و ادب کے کثیرالتصانیف مصنف پروفیسر ڈاکٹر اے۔ آر۔ داد، بلوچی زبان و ادب کے ممتاز نوشتہ کار اور شاعر ڈاکٹر طارق سخی، بلوچی زبان کے دانشور و شاعر پروفیسر شکور زاہد اور بلوچی و اردو زبان کے شاعر پروفیسر خیام نے حصہ لیا اور بلوچستان میں بولی جانے والی زبانوں بالخصوص بلوچی اور براہوئی زبانوں کی اہمیت اور ان کی ترقی کے لیے کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے میزبان پروفیسر ڈاکٹر زاہد دشتی کی جانب سے پوچھے گئے کئی اہم سوالوں کے جوابات انتہائی مدلل انداز میں دیے۔ بحث میں شامل دانشوروں نے اس بات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ سرکاری سطح پر سکولوں میں مقامی قومی زبانوں کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی انہیں کوئی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر بھی ان زبانوں کی اہمیت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ جبکہ دیگر علمی و ادبی اداروں کی کارکردگی بھی حوصلہ شکن ہے۔ انہوں نے حاضرین مجلس کو بلوچی اور براہوئی زبانوں کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں ان کی ترقی و ترویج کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے پر زور دیا اور درخواست کی کہ وہ ان زبانوں میں بات کریں، تحریر کریں اور ان کی ترقی و ترویج کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کریں۔ انہوں نے دالبندین کے سیاسی، علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے بھی بلوچی و براہوئی زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس عمل کو ایک قومی ذمہ داری قرار دی۔ فیسٹیول کے دوسرے سیشن میں دالبندین کے تعلیمی، سیاسی اور سماجی حالات کا مدلل اور مدبرانہ انداز میں ناقدانہ جائزہ لیا گیا اور ان حالات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی۔ اس سیشن کی میزبانی دالبندین کے ممتاز ادبی و سیاسی نوجوان شوکت ناز نے کی جبکہ مباحثے میں ممتاز علمی و ادبی سنگت اور سماجی رہنما سخی نصرالدین مینگل، براہوئی زبان کے ممتاز دانشور اور کثیرالتصانیف مصنف پروفیسر غلام دستگیر صابر، بلوچی زبان کے ممتاز سیاسی و سماجی کارکن سنگت سعید اور دالبندین کے ممتاز سیاسی، علمی اور ادبی شخصیت اور استاد روشن بلوچ نے حصہ لیا۔ مباحثے میں شامل مدبروں نے اپنی مدلل گفتگو سے دالبندین کے مختلف النوع حالات کو اجاگر کیا اور ان کا تنقیدی جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ رخشان ڈویڑن میں شامل تمام اضلاع میں سکولوں کی بڑی تعداد بند پڑی ہے اور وہاں کے بچوں کا مستقبل غارت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ضلع چاغی میں 80سے زیادہ سکول بند پڑھے ہیں جبکہ اس ڈویڑن کے باقی اضلاع کی بھی یہی حالت ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پورے ڈویڑن میں ان بند اداروں کی بحالی کے لیے کسی بھی سطح پر کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ سیاسی، سماجی اور علمی حلقوں کی جانب سے یہ عدم دلچسپی سمجھ سے بالاتر ہے۔ سرکاری حکام بھی اس جانب کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دے رہے جس کی وجہ سے ہزاروں مقامی بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ مباحثے میں علاقے کی سیاسی و سماجی حالات پر بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی اور انہیں نہ صرف تشویشناک بلکہ افسوسناک بھی قرار دیا۔ سیاسی طور پر پورا رخشان ڈویڑن شدید بحرانوں کا شکار ہے اور سیاسی پارٹیوں سے زیادہ مقامی پینلز کی سیاست کی جا رہی ہے۔ اس رحجان کی وجہ سے نہ صرف سیاست کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں بلکہ مقامی سطح پر قبائلی منافرتیں بھی جنم لے رہی ہیں جو یقینا خطرے کی علامت ہیں۔ مقامی بااثر لوگ جو نچلے اور متوسط طبقات کا استحصال کر رہے ہیں اور انہیں ان کی بنیادی حقوق اور وسائل سے محروم کر رہے ہیں، تمام تر علاقائی سیاست پر حاوی ہوچکے ہیں اور لوٹ مار اور کرپشن سے حاصل کردہ اپنی بے پناہ دولت سے لوگوں کی خرید و فروخت کرتے رہتے ہیں اور انہیں پارٹیوں کی بجائے اپنے بنائے گئے پینلز میں شامل ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ رحجانات عوام کو سیاسی و سماجی شعور سے دور رکھنے کی دانستہ کوشش ہے تاکہ عوام ان سرمایہ دار نام نہاد اور بناوٹی سیاست دانوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھتے رہیں اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے نابلد ہوجائیں۔ مباحثے کے شرکا نے یہ بھی کہا کہ ایسے رحجانات بلوچ قومی یک جہتی کے لیے نہ صرف خطرناک ثابت ہو رہے ہیں بلکہ قبائلی سوچ کو بھی پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے جو اکثر و بیشتر قبائلی جھگڑوں اور تنازعات کا باعث بنتی ہے۔ ان نام نہاد اور بناوٹی سیاستدانوں کی وجہ سے بلوچ قوم جو پہلے ہی سے بری طرح مجروع و مضروب ہے وہ مزید تقسیم اور تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مباحثے کے شرکا نے مقامی باشندوں اور علم دوست لوگوں پر زور دیا کہ وہ علاقائی اور قومی تقسیم کا باعث بننے والی سازش کا حصہ بننے کی بجائے قومی سیاست میں آ کر اپنا کردار ادا کریں۔ شرکا نے بلوچستان میں علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شعور کی بیداری کے لیے اس فیسٹیول کی مانند سرگرمیوں پر زور دیا اور نوجوانوں کو تاکید کہ وہ قومی، سیاسی، علمی و ادبی شعور کے حصول کی خاطر ہمہ وقت ایسی سرگرمیوں اور مجالس کا اہتمام کریں اور نہ صرف علم و ادب کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں بلکہ وہ سیاسی حوالے سے بھی انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کی جانب گامزن ہوں جس میں نہ صرف رخشان ڈویڑن بلکہ پورے بلوچستان کی بھلائی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع چاغی سونے ، چاندی، تانبے سمیت کئی قیمتی معدنیات کے ذخائر سے مالامال ہے مگر افسوس کہ وہ ان نعمتوں کی ثمرات سے محروم ہیں۔ یہاں سیندک اور ریکوڈک جیسے مقامات پائے جاتے ہیں جہاں سے سونا اگلتا ہے مگر پورا ضلع چاغی بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ حق تو یہ بنتا ہے کہ مقامی باشندوں کو ان معدنیات کی دولت سے فائدہ ہو اور انہیں ان پروجیکٹس میں روزگار ملے مگر معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ان منصوبوں سے مقامی بااثر افراد اور غیرملکی تو مستفید ہو رہے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کے حصے میں محرومیوں کے سوا کچھ نہیں آ رہا۔ مقامی باشندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے انسانی حقوق کے حصول کے لیے کمربستہ ہو جائیں اور مل کر جدوجہد کریں تاکہ انہیں ان ناجائز اقدامات اور استحصالی نظام سے نجات مل سکے۔ تیسرے سیشن میں بلوچستان مورخ اور بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فاروق بلوچ نے بطور مہمان شرکت کی جبکہ اس سیشن کے میزبانی کے فرائض بلوچستان کے نوجوان صاحب تصنیف شاعر اور بی ایس پجار کے مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار برکت نے سرانجام دیے۔ پروفیسر ڈاکٹر فاروق بلوچ نے ابرار برکت کے سوالوں کے جواب میں بلوچ تاریخ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور بلوچستان کے قدیم اور موجودہ جغرافیائی کیفیت کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ قوم اس خطے کی قدیم قوم ہے اور بلوچستان کے حقیقی باشندے ہیں جنہوں نے گذشتہ ہزاروں سالوں کا تاریخی سفر طے کیا اور مختلف نشیب و فراز کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے بلوچ قوم اور بلوچستان کی تاریخ کو پڑھنے کی اہمیت کو بھی بیان کیا اور نوجوانوں سے التماس کی کہ وہ اپنے ماضی کو ضرور پڑھیں تاکہ انہیں اس بات کا ادراک ہو سکے کہ وہ کتنے شاندار ماضی کے مالک تھے اور کیسے کیسے عظیم الشان سلطنتوں کے بانی تھے۔ جبکہ موجودہ وقت میں قوم و وطن شدید بحرانوں اور زبوں حالی کا شکار ہے اور اس زبوں حالی کا آغاز کالونیل عہد یعنی برطانیہ کی اس خطے میں آمد سے شروع ہوئی جو اب تک جاری و ساری ہے۔ انہوں نے بلوچ قوم اور خطے کی تقسیم کی ایک بڑی وجہ اپنی قومی و جغرافیائی تاریخ اور ماضی سے عدم واقفیت کو بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی رہنمائی کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا ہے جس سے مستقبل کو سنوارا جاسکتا ہے۔ آج بلوچ نوجوانوں کو اپنے ماضی کے مشاہیر کے عظیم الشان کارناموں کے بارے میں کسی قسم کا کوئی علم نہیں ہے اور وہ اپنی تاریخ سے نابلد ہیں جو کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تاریخ پڑھیں اور اپنے ماضی سے ضرور باخبر رہیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے بہتر راہوں کا انتخاب کرسکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ خطہ اور یہاں کے باشندے ماضی قدیم میں بھی اس حد تک معروف و مقبول تھے کہ قدیم مورخین نے بھی ان کا تواتر کے ساتھ تذکرہ کیا ہے اور ان کے عظیم الشان کردار کے تعریف کیے بنا نہیں رہے۔ ماضی کے مورخین ان کی تعریف و ثنا میں رطب اللسان ہیں اور ان کے عظیم کردار کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس سیشن میں شامل حاضرین نے بھی ڈاکٹر فاروق بلوچ سے بلوچستان کی تاریخ کے بارے میں کئی سوالات کیے جن کی انہیں تفصیلی جواب دیے گئے۔ انہوں نے دالبندین اور ضلع چاغی کی آثار قدیمہ پر تحقیق و تفتیش کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس خطے کی زمانہ ماقبل از تاریخ عہد کا مطالعہ کیا جاسکے اور اس عہد کی قدامت کا تعین کیا جاسکے کیونکہ پورے رخشان ڈویڑن میں آثار قدیمہ موتیوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں مگر اب تک ان کی جانب کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دی جاسکی ہے البتہ خزانہ مافیا نے بیشتر قدیم آثار کو اپنی تباہ کن حملوں کا نشانہ ضرور بنایا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ رخشان ڈویڑن کے تمام اضلاع میں عجائب گھر تعمیر کیے جائیں اور مقامی سطح پر موجود قدیم آثار کی سرکاری سطح پر کھدائیاں کر کے ان سے برآمد ہونے والے نوادرات کو ان عجائب گھروں میں محفوظ کیا جائے۔ انہوں نے عوام سے التماس کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اپنے قدیم اثاثے کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا قومی کردار ادا کریں۔ فیسٹیول کا آخری سیشن مشاعرے پر مشتمل تھا جس میں رخشان اور مکران ڈویڑن سے تعلق رکھنے والے شعرا کی بڑی تعداد نے حصہ لیا اور اپنی پر لطف شاعری سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا اور ان کا لہو گرمایا۔ حاضرین نے بھی اپنے ان نوجوان قومی شاعروں کو دل کھول کر داد دی اور ان کے کلام اور انداز بیان کی خوب خوب تعریفیں کیں۔ مشاعرے کے بعد فیسٹیول کے اختتام کا اعلان ان ارادوں کے ساتھ کیا گیا کہ برائے آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس فیسٹیول کو ہرسال منعقد کیا جائے گا اور اس کا دورانیہ بھی بڑھایا جائے گا۔ فیسٹیول میں ایک کتب میلے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں مختلف موضوعات سے متعلق کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ فیسٹیول میں شامل مہمانوں اور شرکا نے اس کتب میلے میں خوب دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ نوجوان طلبا نے بڑی تعداد میں کتابیں خرید کر اپنی علم دوستی کا بھرپور ثبوت دیا۔ مہمانوں اور شرکا نے فیسٹیول کے منتظمین کی اس کتب میلے کے انعقاد کو خوب سراہا اور اس کی تعریف کی۔ فیسٹیول میں رخشان ڈویڑن اور بالخصوص دالبندین کے باشعور اور علم دوست حضرات، سرکاری آفیسرز، کالج و سکول کے اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس فیسٹیول اور اس میں کی جانے والی گفتگو کو علاقے کی بہتری کے لیے خوش آئند اور خوشگوار ہوا کا جھونکا قرار دیا۔ اس فیسٹیول کے منتظمین نے بلاشبہ ایک اہم اور منظم ایونٹ کا انعقاد کرکے ضلع چاغی کے عوام میں نیا جوش و ولولہ پیدا کیا جو یقینا اس خطے کے مستقبل کی بہتری کی ضامن ثابت ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں