اساتذہ کے جائز مطالبات پر حکومت کی خاموشی کی مذمت کرتے ہیں، گورنمنٹ ٹیچرز

کوئٹہ (یو این اے) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان نے صوبائی ہیڈ آفس سے جاری کردہ پریس بیان میں کہا کہ صوبہ میں جاری احتجاجی شیڈول کے مطابق بلوچستان کے تمام اضلاع کے صدور اور جنرل سیکرٹری کو واضح ہدایت کی جاتی ہیں کہ وہ احتجاج کے دائرے کو وسیع کریں اور سکولوں کے دورے کر کے اساتذہ کرام کو شرکت کی دعوت دیں احتجاجی شیڈول مطابق 24 اکتوبر ڑوب ڈویڑن کے اضلاع ، 25 اکتوبر سبی ڈویڑن، 26 اکتوبر لورالائی ڈویڑن، 28 اکتوبر رخشاں ڈویڑن، 30 اکتوبر قلات ڈویڑن ، یکم نومبر نصیر آباد ڈویڑن، 4 نومبر مکران ڈویڑن کے تمام اضلاع اپنے ضلعی اور ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ کریں اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کوتسلیم شدہ مطالبات کے حوالے سے یاداشت پیش کریں بلوچستان بھر کے تمام اساتذہ 7 نومبر 2023 کو صوبائی دالحکومت کوئٹہ میں مرکزی جلسہ میں کثیر تعداد میں شرکت کریں ضلعی صدور اساتذہ کی زیادہ سے ذیادہ شرکت کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ اضلاع کے تمام صدور اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے اپنے موقف کی پریس اور سوشل میڈیا پر بھر پور تشہیر کریں تا کہ اساتذہ کرام اور حکام بالا کو مکمل آگاہی ہو ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان اساتذہ کے جائز مطالبات پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جس سے ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے احتجاجی شیڈول جاری کیا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ جی ٹی اے آئینی بلوچستان اساتذہ کرام کے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گی منظور شدہ ڈیمانڈ نوٹس پر فوری عملدرآمد کیا جائے تا کہ اساتذہ کی مشکلات میں کمی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں