حکومت بلوچستان پوسٹوں کو بڑھائیں اور مشکے انٹر کالج کو ڈگری کالج کا درجہ دیں،مشکے سول سوسائٹی
ضلع آواران تحصیل مشکے گجر شہر میں ایک ہی انٹر کالج ہے کہ جن میں طلبا و طالبات کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہے۔ ان میں اکثریتی طلبا و طالبات گجر سے دور دراز علاقوں کے ہیں کہ وہ انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں پڑھانے کیلئے اساتذہ چاہیے لیکن وہاں صرف چار لکچررز، ولی جان، خالد نوید،بشیر احمد اور پرنسپل زہیر صاحب کے سوا کوہی اور پڑھانے والا نہیں۔ مشکے کی آبادی باقی تحصلیوں کی آبادیوں سے زیادہ ہے لیکن ضلع انتظامیہ اور وزارتِ تعلیم نے مشکے جیسے پسماندہ علاقے کے طلبا و طالبات کو تاریکی میں دکھیل دیا ہے کہ اب امیر بچے اور بچیاں تو دوسرے شہروں میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن مشکے میں اکثریتی علاقوں کے طلبا و طالبات مالی بحران کی وجہ سے مشکے سے باہر تعلیم کی اخراجات پورا نہیں کر پاتے ہیں، انہیں ایک ڈگری کالج کی ضرورت ہے تاکہ وہ آگے بھی اپنی تعلیمی عمل کو جاری کرسکیں۔
ہم بتاتا چلیں کہ مشکے میں غریب بچے اور بچیاں سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے علاقے میں( طلباء تو کسی کھیتی باڑی کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتے یا زمینداروں کے طور پر دو وقت کی روٹی کماتے ہیں اور غریب طالبات خواتین کی کپڑوں کے سلائی کرتی ہیں) بس حالت زار کی زندگیاں بسر کرتے ہیں ۔ یہ بلوچستان حکومت کی نااہلی کا ایک واحد ثبوت ہے کہ مشکے کے طلبا و طالبات کو تاریکی میں دھکیلنے کی سازشیں کرتی آرہی ہے۔ مشکے پہلے خضدار بعد آواران کے تحصیل بن گیا تب سے آج تک تحصیل میں بدعنوانی و محرومیت کی سلسلہ جاری ہے۔
اعلیٰ حکام نے انٹرکالج کو ڈگری کالج کا درجہ دینے کی بجائے سائنس کلاسز بند کردی گئیں ہیں۔ مشکے کے طلباء و طالبات اور بلوچ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔صوبائی حکومت، نگران چیف سیکرٹری اور نگران وزارتِ تعلیم، مشکے میں اساتذہ کی کمی کا فوری نوٹس لیں اور اساتذہ کی کمی پورا کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔
مورخہ دس اکتوبر دوہزار تیئیس میں مشکے انٹر
کالج کے پرنسپل زہیر صاحب سے ملاقات ہوا تھا کہ انہوں نے کہا کہ انٹر کالج میں اکثر استاتذہ کی کمی کی وجہ سے بچے اور بچیاں پڑھنے کیلئے نہیں آتی ہیں کیونکہ ہمارے ہاں صرف چار پوسٹوں پر تعینات اساتذہ، بلوچی، میتامیٹکس، جیوگرافی اور اسٹیٹکس کے ہیں جو ہر روز آکر یہاں بیس کے قریب حاضر طلبا و طالبات کو پڑھاتے ہیں باقی طلبا و طالبات اس لیئے نہی آسکتے کہ حکومت کی جانب صرف پانچ پوسٹیں ہیں جن پر فائز چار اساتذہ تو موجود ہیں ایک پوسٹ ابھی تک خالی ہے۔ باقی مختلف تعلیمی شعبے، ارود، اسلامیات، انگلیش، فزکس، اکنامکس، پولیٹکل سائنس، باٹنی، بیالوجی، زولوجی، مطالعہ پاکستان اور اکنامکس کے اساتذہ کی ضرورت ہے۔،
مشکے انٹر کالج کے پرنسپل باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے کہ انٹرکالج مشکے گجر واحد اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے، جو غریب والدین اور غریب طلباء کیلئے تعلیم جاری رکھنے کا واحد سہارا بنتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات کے باؤجود انٹر کالج کالج کو ڈگری کالج میں بدل نہیں دیا اور نہ ہی نئے پوسٹوں پر توجہ مرکوز کر چکے ہیں بلکہ آج تک باقی اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے انٹر کالج کی حالت زار نہیں بدلی۔
لہٰذا اس جدید و مابعد جدیدیت میں تعلیمی و تربیتی اداروں کے موجود ہونے کے باؤجود پوسٹ پیدا نہیں کرنا لمحہ فکریہ اور اعلیٰ حکام کی تعلیم دشمن پالیسی کا مظہر ہے۔ہم کالج سے کلاسز بند نہیں ہونے دینگے۔ اگر ہماری مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ اس کے خلاف ٹوئٹر ٹرینڈ چلاکر شدید احتجاج کریں گے۔
حکومت بلوچستان،نگراں چیف سیکریٹری، وزارت تعلیم اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ وہ جلد از جلد انٹر کالج مشکےگجر کو ڈگری کالج کا درجہ دیں اور نئے اساتذہ کی تعیناتی کا یقین دلائیں۔


