کوئٹہ میں گرانفروشوں کی من مانیاں، اشیاءخورونوش کی مہنگے داموں فروخت سے غریب طبقہ پریشان
کوئٹہ (آن لائن) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب میں گرانفروشی عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اشیائ خوردونوش، دودھ، دہی، سبزیاں مہنگے داموں فروخت ہورہی ہے۔ اور روٹی کی وزن بھی کم کردی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔ غریب لوگ ناجائز منافع خوروں کے ہاتھوں پس رہے ہیں اوران کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سریاب ملز، کلی کمالو، گاہی خان چوک، سریاب کسٹم سمیت ملحقہ علاقوں میں غیر معیاری اشیائ خوردونوش اور دود، دہی، سبزیاں، گوشت غریب عوام کے پہنچ سے ہوتے جارہے ہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ عوام کو ذخیرہ اندوزوں منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ غیر معیاری اور کمپنیوں کے دونمبر لیبل لگے چیزیں سر عام فروخت کی جارہی ہے۔ پا?ڈر اور کیمیکل ملے دودھ، دہی ، غیر معیاری بیکری کی چیزوںسے بیما ریاں جنم لینے کے ساتھ ساتھ غریب لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔نان بائیوں نے روٹی کا وزن کم کرکے پاپڑ نما روٹیاں بیچ رہے ہیں۔ پرائس کنٹرول اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ دکانداروں نے من مانے ریٹ مقرر کئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ غیر معیاری اشیائ خوردونوش، دودھ دہی میں ملاوٹ اور حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آکر کارروائی عمل میں لائی جائے اور دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ سرکاری نرخ نامہ دکانوں پر آویزاں کریںتاکہ لوگوں سکھ کا سانس لے سکیں۔


