ریکوڈک سمیت قومی وسائل کا سودا کیا گیا، عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئیں گے، ڈاکٹر مالک

تربت (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے آبسر تربت میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کھاکہ عوام کی طاقت اور سیاسی کارکنوں کی حمایت نیشنل پارٹی کو حاصل ہے کوئی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتا ہے۔ 2018 میں تاریخ کی بدترین دھاندلی سے قائم حکومت نے پاکستان کی اقتصادیات کو تباہ کردیا بلوچستان میں قائم حکومت نے ریکوڈک سمیت قومی وسائل کا سودا کیا کرپشن اور اقربا پروری کے ریکارڈ بنائے۔ اسکیمات اور نوکریوں کا سودا کیا گیا۔ تربت فیز ٹو اور تری ، بلیدہ سٹی پروجیکٹ اور بلیدہ تربت روڈ کے فنڈز کو خرد برد کیا گیا۔ انھوں نے کھاکہ نیشنل پارٹی اقتدار میں آکر قومی دولت کے ایک ایک روپے کا حساب لے گی۔ انھوں نے کھاکہ نیشنل پارٹی ایک قومی سیاسی جماعت ہے اور واضح سیاسی حکمت عملی کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں بلوچستان کے عوام کے سیاسی و قومی حقوق اور مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دینگے۔ انھوں نے کھاکہ بلوچستان کے بلوچوں کے علاوہ پشتون پنجابی ہزارہ اور دیگر اقوام کی بھی امیدوں کا مرکز نیشنل پارٹی اور اس کی قیادت ہے۔ انھوں نے کھاکہ پانچ سال تک جن نمائندوں نے عوام کی دولت لوٹی کرپشن اور اقربا پروری کیا قومی دولت لوٹا عوام اور بلوچستان کے اراضیات پر ناجائز قبضہ کیا، ٹوکن کے نام پر سرحدی کاروباری پر ناجائز قبضہ کیا گیا۔ انھوں نے کھاکہ سرکاری نوکریاں برائے فروخت تھے تربت کے محکمہ زراعت میں چمن اور سبی کے افراد کو ملازمتیں دیئے گئے۔ انھوں نے کھاکہ تربت آبسر جیسے علاقے میں تعلیمی ادارے اور قبرستان کی زمینوں پر بھی قبضہ کیا گیا یونیورسٹی کے زمینوں پر قبضہ کیا گیا اور ھاوسنگ اسکیمات بنائے گئے۔ نیشنل پارٹی اقتدار میں آکر تمام تجاوزات اور الاٹمنٹ کو منسوخ اور تمام فنڈز کی انکوائری کی جائے گئی کسی کو قومی دولت ہضم کرنے نہیں دینگے۔ انھوں نے کھاکہ سیاسی کارکن اور باشعور عوام ان سیاسی سوداگروں کا راستہ روکیں۔ انھوں نے کھاکہ بلوچستان میں لگائی گئی آگ کو بجانے کی ضرورت ہے قومی مفاہمتی پالیسی سے تمام اسٹیک اولڈرز سے سیاسی گفت و شنید کی حکمت عملی اپنائی جائے گئی بلوچستان میں ہونے والے ناانصافیوں کا ازالہ کر کے پرامن بلوچستان کی تعمیر کریں گئے۔ انھوں نے کھاکہ کارکن انتخابات کی بھرپور تیاریاں شروع کریں۔ اجلاس سے واجہ ابوالحسن، نثار بزنجو ، مشکور بلوچ، حاجی یاسین، بلخ شیر قاصی، اقبال بلوچ، احسان درازئی، سبزل کولوائی، حاجی ھاشم، میر مزار اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں