چمن بارڈر پر غیرقانونی آمدورفت سیکورٹی رسک ہے، مقامی لوگوں کے مسائل حل کریں گے، جان اچکزئی
چمن (آن لائن) نگران وزیراطلاعات بلوچستان جان اچزئی ایک روزہ دورے پر چمن پہنچیں ڈپٹی کمشنر ضلع چمن کیپٹن (ر) راجہ اطہر عباس ڈی پی او محمد نعیم اچکزئی و دیگر ضلعی آفسران نے ڈی سی کمپلیکس میں نگران وزیر اطلاعات کا استقبال کیا جس کے بعد پاک افغان بارڈر شاہراہ پر پاسپورٹ سسٹم نافذ کرنے کیخلاف جاری پانچ دن دھرنے کے منتظمین سے ڈی سی آفس میں بات مذاکرات کیے گئے مذاکرات کے بعد نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے دھرنے کے منتظمین سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے جوکہ انکے مسائل سے حکومت کو آگاہ کرینگے اور ان کے مسائل کے حل کرنے کیلئے بھرپور کوشش کرینگے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان دو الگ الگ ممالک ہے پاکستانی حکومت نہ صرف پاک افغان بارڈر پر بلکہ ہر بارڈر پر پاسپورٹ ریجیم سسٹم پر لوگ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں فیڈرل ادارے پاسپورٹ شناختی کارڈ صحت ایجوکیشن کی کارکردگی کو بہتر بنائینگے چمن بارڈر کو ریگولیٹ کرینگے انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ کی پالیسی ہے کہ غیرقانونی طور پر پاکستان میں رہنے والے افراد کو نکالا جائے پالیسی کسی ایک ملک کسی ایک کمیونٹی کے خلاف نہیں اس میں افغان انڈین ایرانی و دیگر ممالک کے لوگ بھی شامل ہے اس وقت ملک میں 13 لاکھ غیرقانونی افغان مہاجرین جو غیر دستاویزات پر موجود ہے جن کو پر امن طریقے سے اپنے اپنے وطن واپس بیجا جا رہا ہے بغیر ڈاکومنٹ کے کوئی ملک میں نہیں رہ سکتا ہے ان افراد کی چالیس سال مہمان نوازی کی ہے اب انکو اپنے ملک پرامن طریقے سے بھیج رہے ہیں لوکل کمیونٹی کے مسائل سے حکومت کو آگاہ کرینگے نادرا سینٹر پاسپورٹ اور دیگر مسائل کو فوری طور پر ٹھیک کرینگے چمن بارڈر پر غیرقانونی آمدورفت سیکورٹی رسک ہے جنوری سے اب تک بیس خودکش حملے ہوئے ہیں جس میں ہمارے سیکورٹی فورسز کے جوانوں اور عام عوام درجنوں کی تعداد میں شہید ہوئے ہیں ان واقعات کے بعد گرفتاریوں میں بدقسمتی سے چودہ لوگ ہمسایہ ملک سے ہے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آگے بھی اسی طرح کے مذاکرات جاری رہیں گے حکومت کی جانب سے پرامن احتجاج پر کسی قسیم پابندی نہیں ہے۔


