دین،ایمان اور انسانت کی رخصتی
تحریر: انور ساجدی
زمانہ ہوا ریاست پاکستان سے ایمان، راستی اخلاق اور انسانیت اٹھ چکی۔اس سلسلے میں ہزاروں مثالیں موجود ہیں مگر حالیہ مثال غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملہ کے بعد پاکستان کے شہر شہر فلاحی تنظیمیں اور کچھ ملا صاحبان نے سامان اکٹھا کرنے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ اگرچہ ایک نیک عمل ہے لیکن صاف ظاہر ہے کہ یہ سامان کبھی غزہ نہیں پہنچے گا اور حملہ کرنے والے لوگ بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ شدید بمباری کے بعد غزہ چاروں طرف سے اسرائیل کے نرغے میں محصور ہے۔ عالمی اپیلوں کے باوجود اسرائیل زندگی بچانے والی اشیاءپانی،ادویات اور خوراک پہنچانے کی اجازت نہیں دے رہا۔ایسے میں ہمارے چند ملا صاحبان اور فلاحی تنظیمیں نہ جانے امدادی سامان جمع کیوں کر رہے ہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ دو تلوار پر مشہور تنظیم جے ڈی سی کا کیمپ لگا ہوا ہے جس میں لوگوں نے بڑی تعداد میں سامان جمع کر رکھا ہے۔جے ڈی سی ایک اچھی تنظیم سمجھی جاتی تھی اور اس نے سندھ میں سیلاب کے دوران کافی اچھا کام کیا تھا۔غزہ کے محصورین کے لئے اس کی جانب سے سامان اکٹھا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔باقی جو تنظیمیں بھی ظاہرہے کہ وہ چندے اور امدادی سامان سے اپنا بھلا کریں گی۔یہ بے ایمانی ،دھوکہ دہی اور لوٹ مار کا بدترین نمونہ ہے۔
غزہ کی جو صورتحال ہے وہ سب دنیا کے سامنے ہے۔اسرائیل بچوں خواتین اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرکے انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ ساتھ دے کر شریک جرم بن رہا ہے۔صدر بائیڈن نے گزشتہ انتخابی مہم میں بنیادی انسانی حقوق اور جمہوریت کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ قرار دے کر ان کی بنیاد پر نیم پاگل ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دی تھی لیکن غزہ پر حملہ کے دوران امریکہ کی بربریت ڈھکوسلے نعروں کا پول کھل چکا ہے۔مغرب کی جمہوریت دنیا بھر میں رسوا ہوچکی ہے۔اگرچہ حماس نے اسرائیل پر حملوں کا آغاز کر کے سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا منصوبہ خاک میں ملا دیا لیکن سعودی عرب ہو،مصر ہو، عرب امارات ہو یا دیگر عرب ممالک وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔ اسرائیل امریکہ اور یورپ کے حکمرانوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اسرائیل کو تیل اورگیس کی سپلائی جاری ہے۔ ترکی مصر اور عرب امارات کے تجارتی مراسم قائم ہیں اور لگتا نہیں کہ وہ غزہ اور اس کے بچوں کو بچانے کے لئے اسرائیل کے خلاف کوئی کارگر کارروائی کریں گے اگر دیکھا جائے تو تمام مسلمان ممالک باالعموم اور عرب ممالک کے سربراہ”خواجہ سرا“ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اسرائیل نے اسلامی کانفرنس عرب لیگ اور گلف کو آپریشن کونسل نامی تنظیموں کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔
پرانی چینی کہاوت ہے کہ
چاول اپنے ہی دیگ میں پکتے ہیں۔
یعنی فلسطین کے عوام کو ظلم کے خلاف خود لڑنا ہوگا کوئی مسلمان عرب اور انسانی دوست ملک ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اسرائیل بھول چکا ہے کہ ہٹلر نے ان کے ساتھ کیا کیا تا اور پولینڈ کے نازی کیمپ میں کس طرح لاکھوں یہودیوں کو مار دیا تھا۔وہی کام صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو کررہا ہے۔حالانکہ حماس کے حملوں کے بعد نتین یاہو عوامی حمایت کھو چکا ہے اور وہ جنگ کے بعد اقتدار سے الگ ہو جائیں گے اور ان کا سیاسی کیرئیر ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔پاکستانی حکومت نے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا جو منصوبہ پیش کیا تھا وہ ناکام ہوگیا ہے۔تمام ترکوششوں کے باوجود اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ 17 لاکھ رجسٹرڈ افغان باشندے بدستور مقیم ہیں اور حکومت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان لوگوں کو واپس نہیں بھیجا جائے گا جو لوگ گئے ہیں وہ حد درجہ غریب نادار اور بے وسیلہ لوگ تھے۔حکومتیں جانتی ہیں کہ لاکھوں لوگوں نے شناختی کارڈ اور جعلی شہریت کی دستاویزات بنا رکھی ہیں ان میں سے ہزاروں لوگ آسٹریلیا، امریکہ ،کینیڈا اور یورپی ممالک میں پاکستانی شہری کی حیثیت سے رہ رہے ہیں صرف سعودی عرب میں ساڑھے12 ہزار ایسے افغانی پکڑے گئے جو پاکستان پاسپورٹ پر وہاں گئے تھے۔ماضی کی حکومتوں نے تمام غیر ملکی باشندوں کے خلاف صرف نظر سے کام لیا اور انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ موجودہ حکومت ایک عارضی نگراں حکومت ہے اور اس کے مینڈیٹ میں اس طرح کے اقدامات شامل نہیں ہیں لیکن پھر بھی اس نے کوشش کی ہے جو بوجوہ ناکام ہوگئی۔افغان مہاجرین کے انخلاءپر افغانستان کے وزیراعظم نے بڑا سخت بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی کارروائی ہمسائیگی، انسانیت اور مسلمان ہونے کے ناطے ظالمانہ ہے۔ داخلی طور پر پشتون سیاسی رہنماﺅں نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا جس کی وجہ سے حکومت کو اصل پلان سے ہٹنا پڑا۔ماضی میں پاک افغان بارڈر افغان باشندوں کے لئے کھلا تھا گزشتہ حکومت کے دور میں سرحد پر باڑ لگائی گئی تھی جو غیر موثر ثابت ہوگئی کیونکہ افغان باشندے آئے دن یہ باڑ اکھاڑ کر لے جاتے تھے۔اس طرح پاکستان کے اربوں یا کھربوں روپے ضائع ہو چکے ایک طرف افغان بارڈر کھلا تھا تو دوسری جانب ایران کی سرحد بند تھی اور کوئی چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی حالانکہ بین الاقوامی قوانین ہیں کہ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کو آنے جانے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ رشتہ دار آپس میں مل سکیں لیکن ایران نے ان قوانین کی کبھی پاسداری نہیں کی۔اس ملک نے لاکھوں بلوچ آبادی کو امریکہ کے ریڈ انڈین کی طرح محصور بنا کر رکھا ہے۔ان کو پیٹ پالنے کے سوا دیگر بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور معمولی جرائم پر آئے دن لوگوں کی اچھی خاصی تعداد کو کرینوں پر لٹکا کر پھانسی دی جاتی ہے۔ایران کا اثرورسوخ اتنا زیادہ ہے کہ دنیا ان مظالم پر خاموش ہے۔بالکل اس طرح جس طرح چین سنکیانگ کی اوغور آبادی پر مظالم ڈھا رہا ہے لیکن سب خاموش ہیں۔پاکستان اتنا مجبور ہے کہ برسوں پہلے جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کو وہاں جا کر اپنے بیانات کی وضاحت کرنا پڑی۔ انہی کی طرح سب سے بڑی دینی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی چین کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں حالانکہ چین کے ہزاروں کیمپوں میں لے جا کر مسلمان بچوں کو لادین بنایا جا رہاہے۔ان تمام لوگوںکا بس بھی اپنے ملک کے غریب لوگوں پر چلتا ہے۔مولاناسردست خوش ہیں کہ آنے والے انتخابات میں وہ کے پی کے تنہا مرد میدان ہوں گے۔ان کے مد مقابل جماعت تحریک انصاف کو حکمران کریش کر رہے ہیں۔اس کی ساری صوبائی قیادت جیلوں میں ہے۔تازہ گرفتاری سابق اسپیکر اسد قیصر کی ہے ۔اگرچہ مولانا اورن لیگ نے الگ الگ کوشش کی ہے کہ عام انتخابات کو مزید طوالت دی جائے لیکن چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 8 فروری کو انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔اس حکم کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیزہورہی ہیں اور سب کو یقین ہے کہ انتخابات وقت مقررہ پر ہوں گے۔البتہ گزشتہ کچھ عرصہ سے دہشت گردی کے جو واقعات ہورہے ہیں اس سے انتخابات کے بروقت انعقاد کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔بوجوہ نگراں حکومت ان واقعات کے تدارک میں ناکام ہے۔9مئی کی طرح ایک بار پھر میانوالی کے ائیربیس پر حملہ کیا گیا۔اگر خدانخواستہ ایسے واقعات بڑھ گئے تو انتخابات کونقصان پہنچ سکتا ہے حالانکہ ایسے واقعات کے بعدضرورت اس امر کی ہے کہ ایک منتخب حکومت کا قیام عمل میں آئے کیونکہ ان واقعات کو روکنا کسی عبوری حکومت کے بس کا کام نہیں ہے۔اگر انتخابات ہوئے تو وہ سب انجینئرڈ ہوں گے۔اس کے نتیجے میں جو نئی حکومت آئے گی وہ حسب سابق ہائبرڈ ہوگی۔چاہے وزیراعظم نوازشریف کیوں نہ ہوں اصولاً شفاف انتخابات کی ضرورت ہے جو حکومت اور اداروں کی مداخلت سے بالاتر ہوں ا سکے بغیر جو بھی تجربات کئے جائیں گے ان کا نتیجہ یا حشر وہی ہوگا جو نوازشریف اور عمران خان کی حکومتوں کا ہوا۔فی الحال تو کوئی لیول پلینگ فیلڈزنظر نہیںآ رہا ہے۔نوازشریف قیدی اور مجرم کی حیثیت سے لندن گئے تھے ایک وی آئی پی کی حیثیت سے واپس آ گئے جبکہ عمران خان اور ساتھی جیلوں میں بند ہیں۔حالانکہ سب کو انتخابات میں یکساں مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔


