ڈاکٹر شکر اللہ کو لے جانی والی گاڑی کو کوسٹ گارڈ نے گھنٹوں روکے رکھا، ایک اور ڈاکٹر متاثر
کوئٹہ (این این آئی) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین ڈاکٹر یاسراچکزئی اورسیکرٹری جنرل ڈاکٹر امان اللہ نے کہا ہے کہ سول ہسپتال کوئٹہ میں پھیلنے والے کانگو وائرس سے لڑتے ہوئے ہمارا ساتھی ڈاکر شکر اللہ شہید ہوگیا ہے ، ہمارے پاس سہولیات کا فقدان ہے،وزیر اعلیٰ اور وزرائ کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس سہولیات کا فقدان ہے بلوچستان حکومت نے ساتھی ڈاکٹرز کو کراچی بھیجنے کے لئے ائیر ایمبولینس فراہم نہیں کی، ڈاکر شکر اللہ شہید کی ایمبولینسز کو وند کے مقام پر کوسٹ گارڈ نے روکے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ دو سال سے سہولیات کی کمی کا رونا رو رہے ہیںکورونا کے بعد امید تھی کہ ہم وبائ سے لڑنے کے لئے تیار ہیں لیکن ہمارے پاس ابھی بھی سہولیات نہیںہیں۔ انہوں نے کہاکہ سول ہسپتال کوئٹہ میں سی بی سی ٹیسٹ کی سہولت تک موجود نہیںہے سرکاری ہسپتالوں میں مشینری فعال کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس وارڈ سے وبائ پھیلی گئی ہے تین دن کے لئے اس جو بند کر رہے ہیںہم اب اپنا علاج کریں یا پھر مریضوں کا علاج ومعالجہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ اور وزرائ کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں کوسٹ گارڈ کی بدمعاشی نے ایک ڈاکٹر کی جان لے لی اور دوسرے ڈاکٹر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے کوسٹ گارڈ والوں نے ناکہ کھاڑی پر اپنی دکان لگائی ہوئی ہے، لوگوں کی تذلیل کررہے ہیں، خدارا کوئی تو کوسٹ گارڈ کے خلاف آواز اوٹھا? کوئٹہ سے کراچی بارہ گھنٹوں کا ناختم ہونے والے سفر میں ڈاکٹر شکر اللہ کو بچانے کی لاکھ کوشش کرنے والا اس کا دوست ڈاکٹر سرفراز احمد ساسولی اپنے دوست کو تو نہ بچا سکے لیکن خود کانگو وائرس کا شکار ہوگیا۔ اس وقت آغا خان اسپتال میں زیر علاج ہے۔


