فلسطینیوں کو امن اور صلح دلانے میں ان کی حمایت کی جائے، مولانا شیرانی

کوئٹہ(آن لائن)رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ فلسطینیوں کی حمایت میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اختلاف حمایت کی نوعیت میں ہے ہمارا موقف یہ ہے کہ فلسطینیوں کو امن اور صلح دلانے میں ان کی حمایت کی جائے لڑانا اور خون بہانا ان کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا نہیں ہے تین جنگوں کے نتیجے میں فلسطینیون کو اسرائیل کے قیام کے قرار داد کے وقت حاصل ہونے والی سرزمین 44 فیصد سے گھٹ کر 14 فیصد پر آگئی موجودہ جنگ کا نتیجہ بھی فلسطینیوں کے حق میں ماضی کے جنگوں سے مختلف نہیں ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی پاکستان ضلع شیرانی اور ڑوب کے ضلعی رابطہ مرکز میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 1914 میں انگریزوں اور جرمنی کے درمیان دنیا پر بالادستی کے لئے شروع ہونے والی پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ جرمنی کی اتحادی تھی لیکن اسی خلافت کے زیر نگین عرب علاقوں کے سرکاری عمال اور خلافت کے عرب نمائندوں نے اتحاد العربیہ کے نام سے تنظیم بنائی اور خلافت عثمانیہ کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے انگریز فوج کی حمایت کا اعلان کیا اور 1917 میں فلسطین کے عرب گورنر نے انگریز جرنیل کا استقبال کیا اور بغیر کسی جنگ یا مزاحمت کے فلسطین کو بخوشی انگریزوں کی خدمت میں پیش کر دیا گیا انگریزوں کے نمائندہ لارنس آف عربیہ نے پورے عرب خطے میں عرب نیشنلزم کی ذہنیت کو پیدا اور بیدار کیا یہی ذہنیت بعد میں خلافت کے زوال اور خطے پر فرانسیسی اور برطانوی تسلط کا پیش خیمہ بنا انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطین کے لئے جو زمین مختص کی گئی تھی اس پر عربوں نے جو دو اعتراضات کئے تھے وہ قومی حاکمیت اور زمین کی ملکیت سے متعلق تھے ان میں سے کوئی ایک بھی مذہبی اعتراض نہیں تھا لیکن ہمارے ملک میں اس مسئلے کو مذہبی مسئلہ بناکر پیش کیا جاتا ہے یہودیوں کی مذہبی لڑائی مسلمانوں نہیں بلکہ مسیحیوں کے ساتھ ہے کیونکہ یہودی حضرت عیسی کو مصلوب کرنے کا دعوہ کرتے ہیں جبکہ یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ کا ارتکاب مسیحیوں نے کیا تھا لیکن اب مسیحیوں نے اپنی دشمنی بڑی چالاکی کے ساتھ مسلمانوں کے گلے میں ڈال دی ہے انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو ناقابل قبول قرار دینے والے حلقوں کی ایک دلیل یہ ہے کہ جناح صاحب نے اس حل کو مسترد کیا تھا حالآنکہ حقیقت یہ ہے کہ جناح صاحب انگریزوں کا مقرر کردہ گورنر جنرل تھے ان کی رائے تو ضرور وہی رہی ہوگی جو انگریزوں کے منشا اور مفاد سے مطابقت رکھتی ہو اس لئے فلسطین کے معاملے پر جزبات سے ہٹ کر دلیل کے ساتھ سنجیدہ مباحثہ ہونا چاہیے اور عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے اس موقع پر جے یو آئی پاکستان ڑوب کا ضلعی امیر الحاج قاضی احمد خوستی ،ضلع شیرانی کا امیر حاجی سید ظاہر شاہ حریفال سمیت کثیر تعداد میں علما اور کارکن موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں