خواتین کو سیاسی اور ترقیاتی عمل میں شامل کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے، جان اچکزئی

کوئٹہ (آن لائن)صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ گزشتہ 35 سالوں سے پاکستان کے چاروں صوبوں کے نظرانداز طبقات بلخصوص عورتوں کو سیاسی اور ترقیاتی عمل میں شامل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ اور خواتین کا فیصلہ ساز اداروں تک رسائی کے لئے کوشش اس سفر کا حصہ ہیں۔ خواتین کو سیاسی عمل میں اکھٹا کرکے مختلف امور زیر غور لائے جاتے ہیں ، جس کا نتیجہ سیاسی عمل میں خواتین کی باقاعدگی کے ساتھ شمولیت کے طور پر حاصل ہوا، جذبہ پروگرام میں توسیع کی ضرورت ہے پرو وومن لاز پر مزید کام اور اس حوالے سے ایڈووکیسی کی ضرورت ہے۔ساتھ ایشیا پارٹنرشپ پاکستان اور عورت فانڈیشن کے زیر اہتمام بلوچستان بوائز اسکاوٹس ہیڈ کوارٹر میں جمہوریت اور بااختیار عورت، حکومت اور سول سوسائٹی کے کردار، چیلنجز، آگے بڑھنے کا راستہ اور سفارشات پر قانون سازوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ انٹرفیس ڈائیلاگ کے عنوان سے ایک روزہ نشست کا انعقاد کیا گیا۔ نشست کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی تھے۔نشست میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی ممبر پروفیسر فرخندہ اورنگزیب، کمیشن آن وومن سٹیٹس بلوچستان کی چیئرپرسن فوزیہ شاہین، الیکشن کمیشن کے پبلک ریلیشن آفیسر غوث بخش، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر رقیہ تاج، ڈویژنل ڈائریکٹر ایس ڈبلیو ڈی محمد عبدوہو، عورت فاﺅنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاﺅالدین خلجی، پروجیکٹ آفیسر جذبہ پروگرام سیپ پی کے یاسمین مغل،محکمہ انسانی حقوق کے صوبائی ڈائریکٹر اسفندیار، نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو، ایچ آر سی پی کے ڈپٹی چیئرمین بلوچستان کاشف پانیزئی، بہرام بلوچ، فائزہ میر، شیزان ویلیم، بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ و دیگر نے شرکت کی ۔دیگر مقررین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئٹہ میں لوکل گورنمنٹ کوئٹہ میں انتخابات کیلئے تیاری کررہی ہے عام انتخابات بھی آرہے ہیں تاہم الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ الیکٹرول پر کام جاری ہے اور انتخابات کیلئے شیڈول کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا جائے گا کیونکہ الیکشن کمیشن تمام محکموں سے باقاعدہ رپورٹ لیکر الیکشن کا اعلان کریگا ووٹ کی اندراج کیلئے وقت دیا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ میونسپل کارپوریشن و کمیٹیوں کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی میں خواتین کا کردار نہ ہو تو امپاورمنٹ کا عمل انتہائی مشکل ہوگا پارلیمان کیلئے انتخابی عمل میں خواتین کا حصہ 33 فیصد کیا جائے تاکہ سیاسی عمل کے ساتھ فیصلہ سازی میں بھی خواتین کا فعال کردار ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں