بلوچستان لے جانے والوں کو بچوں کو فوری والدہ کے حوالے کرنے کا حکم

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے ناراض شوہر کی جانب سے دو بچوں کو کراچی سے زبردستی بلوچستان لے جانے کے کیس میں بچوں کو فوری والدہ کے حوالے کر کے رپورٹ طلب کرلی۔پیر کو سندھ ہائیکورٹ میں ناراض شوہر کی جانب سے دو بچوں کو کراچی سے زبردستی بلوچستان لے جانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے حکم پر کراچی اور بلوچستان پولیس نے بچوں کو عدالت میں پیش کردیا۔شوہر کے وکیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ میاں بیوی کی شادی برقرار ہے بقیہ ناراضگی کی وجہ سے بلوچستان لے گیا تھا۔جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ گھر بچ جائے تو بہتر ہے میاں بیوی کو سوچنے اور بات چیت کا موقع ملنا چاہیے ۔محمد احمد لغاری ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پارس نے بلوچستان نصیرآباد کے ندیم سے شادی کی تھی۔12 اکتوبر کو ندیم اپنے بھائیوں کے ساتھ بیوی کے گھر میں گھس کر بچے زبردستی اپنے ساتھ لے گیا ۔درخواست گزار نے بتایا کہ 8 ماہ کی کائنات اورتین سالہ تیمور شامل ہیں اور عدالت نے 31 اکتوبر کو ایس ایس پی کو بچے والدہ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے آئی جی سندھ،آئی جی بلوچستان سیکرٹری داخلہ سندھ اور بلوچستان کو طلب کیا تھا۔بچوں کے واپس ملنے پر کمرہ عدالت میں جذباتی مناظر تھے۔بچوں کی نانی احاطہ عدالت میں بے ہوش ہوگئیں۔بچے ماں کو واپس ملنے پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں