طلباء وفد اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام، جلد آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، بلوچ طلباء الائنس

بلوچ طلباء الائنس نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات جاری کر دیے ہیں، اپنے جاری کردہ رپورٹ میں انہوں نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے تمام میٹنگز کی تفصیلات جاری کر دیے ہیں۔ اپنے جاری کردہ رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کی جانب سے 24 جون 2020 کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے سہ روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ کے آخری روز ایک پُرامن ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ پُرامن ریلی پر کوئٹہ پولیس نے دھاوا بول دیا تھا۔ طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد متعدد طلبہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتاریوں کے بعد حکومتی انتظامیہ اور طلبہ کے مذاکراتی کمیٹی سے مسلسل ملاقاتوں میں آن لائن کلاسز کے مسلئے کے حل کے لیے تجاویز اور بحث مباحثے جاری رہے ہیں جس کی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے۔
25 جون 2020: پہلی میٹنگ۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے مزاکراتی وفد میں وزیر اعلی جام کمال، وزیر داخلہ ضیاء لانگو اور فنانس منسٹر ظہور بلیدی شامل تھے۔ طلبہ وفد نے طلبہ کو آئن لائن کلاسز کے حوالے سے درپیش تمام مسائل و مشکلات کو حکومتی وفد کے سامنے رکھا۔ حکومتی وفد نے طلبہ کو مکمل یقین دہانی کرائی کہ وہ طلبہ کو درپیش تمام مسائل کو حل کریں گے۔ حکومتی وفد اس عمل پر اتفاق کا اظہار کیا کہ وہ چئیرمین ایچ ای سی کو ایک خط کے زریعے اس بات پر مائل کریں گے کہ جب تک صوبہ بلوچستان آنلائن کلاسز کے مسلئے کو حل نہیں کر پاتی تب تک آئن لائن کلاسز فوری طور پر ملتوی کیے جائے اور وہ تمام طلبہ جو کلاسز یا امتحان نہیں لے پائے ہیں انہیں ریلیف دیا جائے۔
26 جون 2020: دوسری میٹنگ۔
حکومتی وفد نے اپنے رپورٹ میں کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے آئن لائن کلاسز کے حوالے سے ایچ ای سی کو لیٹر لکھا گیا ہے لیکن اب تک ایچ ای سی کی جان سے لیٹر کا جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ البتہ فیڈرل ایجوکیشن منسٹر نے حکومت بلوچستان کو کہا گیا کہ صوبہ کے تعلیمی ادارے با اختیار ہیں اگر حکومت بلوچستان اپنے اداروں کو اس بات پہ متفق کر سکتے ہیں کہ وہ آئن لائن کلاسز بند کریں۔ حکومتی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ اس بارے میں حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی سربراہان سے رابطہ کیا گیا۔ حکومتی وفد کے موقف کے مطابق تعلیمی اداروں کے سربراہان نے اس مدعے پر کوئی خاطر خواہ ردعمل نہیں دیا۔
29 جون 2020: تیسری میٹنگ۔
تیسری میٹنگ میں تمام سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا لیکن طلبہ وفد کی جانب سے یہ محسوس کیا گیا کہ آئن لائن کلاسز کے مسئلے حل کی طرف نہیں جارہے ہیں۔ البتہ حکومتی وفد کی جانب سے اس میٹنگ یہ طے ہوا کہ اگلے میٹنگ میں تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان (وائس چانسلرز) موجود ہونگے۔
2 جولائی 2020: چوتھی میٹنگ۔
اس میٹنگ میں صوبے کے تمام یونیورسٹیوں کے سر براہاں موجود تھے۔ طلبہ وفد کی جانب سے بلوچستان اور بلوچستان سے باہر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کے مسائل کا معقول حل درج زیل نقاط کی شکل میں پیش کیا۔
1۔ بلوچستان حکومت بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ طلبہ آن لائن کلاسز لے سکے۔
2- اگر یہ ممکن نہیں تو تمام تعلیمی ادارے یا صرف ہاسٹل ایس او پیز کے تحت کھول دئے جائے تاکہ طلبہ کو انٹرنیٹ اور بجلی تک رسائی ممکن ہوسکے۔
تمام گفت و شنید کے بعد حکومتی کمیٹی نے ان تمام نکات کو رد کرکے اس نقطے پر میٹنگ ختم کی کہ تمام جامعات اپنے طلباء سے رابطہ کرکے معقول زرائع کو استعمال کرکے کلاسز تک رسائی آ سان بنائینگے۔ جس کے لیے مزید ایک سے دو ہفتے درکار ہونگے۔
طلبہ کے مذاکراتی کمیٹی نے اس فیصلے کے خلاف اور فوری حل کے لئے اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کروایا لیکن حکومت کے مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے ہٹ دھرمی برقرار رہی۔ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچ طلبہ الائینس یہ سمجھتی ہے کہ حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذاکرات سودمند ثابت نہیں ہوئے ہیں اور آ ئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اپنے اتحادی تنظیموں کی میٹنگ بلانے کا اعلان کرتی ہے اور جلد ہی اِس بارے میں اجلاس کا انعقاد کرکے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں