محکمہ زراعت ریلیف نہ دے سکا، حب اور لسبیلہ کے زمیندار بلڈوزر گھنٹے، گندم کے امدادی بیجوں سے محروم

حب (نمائندہ انتخاب) ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ ضلع حب اور لسبیلہ کے زمینداروں کو ریلیف پہنچانے میں ناکام سیلاب سے تباہ ہونے والے زمینداروں کے بندات کیلئے بلڈوزر آورز کی تقسیم نہ ہو سکے اور نہ ہی گندم کے بیج امدادی قیمت پر زمینداروں تک پہنچ سکے جبکہ دوسری طرف یوریا کھاد ڈیلرز نے بھی زمینداروں کو کھاد فروخت کرنے کے بجائے اوپن مارکیٹ میں پہنچا دی گئی زمیندار سراپا احتجاج اب تک صرف طفل تسلیوں پر ٹرخایا جارہا ہے ،گندم کا بیج نہ ملنے کی وجہ سے فصل کی بوائی کے وقت گزرنے کی سبب اکثر زمیندار گندم کی کاشت نہ کر سکے جبکہ جن زمینداروں نے اوپن مارکیٹ سے مہنگے داموں بیج خرید کر گندم کی بوائی کی تو ا±نہیں یورکھاد دستیاب نہیں جسکی وجہ سے اس بار دونوں اضلاع میں گندم کی کاشت اور فصل کے متوقع اہداف پورے کرنا مشکل نظر آرہے ہیں اس حوالے سے محکمہ زراعت کے حکام کی جانب سے زمینداروں سے ملاقاتیں اور یقین دہانیاں بھی اب تک بے سود نظر آرہی ہیں زمینداروں کا کہنا ہے کہ حب اور ساکران کے زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں نئی کاشت فصلات سرسوں اور گندم کیلئے یوریا کھاد نایاب ہے ضلع حب کے ڈیلرز یوریا بلیک میں 5500 روپے میں فروخت کررہے ہیں، جبکہ کنٹرول ریٹ 3650 روپے ہیں اور حب کے ڈیلر کھاد بلیک میں من مانے ریٹوں پر فروخت کررہے ہیں،محکمہ زراعت ضلع حب کے ذمہ داران ان یوریا کھاد ڈیلر مافیاز کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں،ضلع حب کے ڈیلرز کوٹے کی یوریا ضلع میں لاکر فروخت کرنے کے بجائے کراچی سے ہی بلیک میں فروخت کررہے ہیں ،حب ساکران کے زمینداروں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ یوریا کھاد کے بحران کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو یوریا کھاد کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور ہوسکیں اسی طرح کے خدشات اوتھل بیلہ لاکھڑا وندر کے زمینداروں نے ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوتھل میں یوریا کھاد کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے کھاد کی بلیک میں دھڑلے سے فروخت جاری لسبیلہ کے ڈیلرز کا ضلع کے کوٹے کی یوریا لسبیلہ لانے کی بجائے کراچی میں ہی فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے زمینداروں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ یوریا کھاد ڈیلرز کی جانب سے بلیک میں یوریا کی فروخت کانوٹس لیں نئی کاشت فصلات ٹماٹر گندم کیلئے یوریا کھاد نایاب ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں