سرکاری ہسپتالوں کی حالت خستہ حال، حکومت ائیرایمبولینس خرید رہی ہے، بلوچستان ہائیکورٹ،تین جہازوں کی مکمل تفصیلات طلب

کوئٹہ;بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جناب جسٹس محمد کامران ملاخیل نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت اورخستہ حالی تشویشناک ہے جس کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے صوبائی دارالحکومت کے ہسپتال میں اسسٹنٹ کمشنر آکسیجن پریشر کی کمی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ حکومت ائیر ایمبولینس خریدنے جارہی ہے عدالت عالیہ صوبائی حکومت کو تا حکم ثانی ایئر ایمبولینس کی خریداری سے فوری روکنے کا حکم جاری کرتی ہے اور ساتھ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو حکم دیا جاتا ہے کہ اگلی سماعت پر حکومت بلوچستان کے ملکیت تینوں جہازوں کے لاگ بک اور گزشتہ ایک سال میں اس پر سفر کرنے والے مریضوں، مسافروں اور استعمال کرنے کی سفری وجوہات اور مکمل تفصیلات عدالت عالیہ میں تحریری طور پر پیش کی جائیں مزید برآں عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی پاداش میں ایکسین کیسکو تربت حسن علی مگسی اور چیف آفیسر میٹرو پولیٹن کارپوریشن تربت کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں یہ حکم جسٹس جناب جسٹس محمد کامران ملاخیل اور جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل بنچ نے عبدالروف بنام حکومت بلوچستان کے آئینی درخواست نمبر 83/2018میں صادر کیا سماعت کے دوران عدالت عالیہ میں منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ‘ ثناء اللہ ابابکی ایڈووکیٹ اور شکیل زعمرانی عدالت میں پیش ہوئے، منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کیس میں سی ایم اے کے ذریعے فریق بننے کی درخواست دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ایک طرف تو حالت یہ ہے کہ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ کو صوبائی حکومت نے ایمرجنسی بنیادوں پر کورونا سینٹر ڈیکلیئر کیا لیکن بد قسمتی سے حاضر سروس اسسٹنٹ کمشنر وکیل احمد کاکڑ آکسیجن پریشر کی کمی کی وجہ سے فوت ہوگئے جبکہ دوسری جانب صوبے کے پالیسی میکر اور ایگزیکٹو برانچ نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے ایئر ایمبولینس خریدی جائے جس کی باقاعدہ خبریں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس کی تشہیر کی ہے کہ صوبائی حکومت ایئر ایمبولینس خرید نے جا رہی ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ اب تک یہ مخصوص ایک آئیڈیا ہے حکومت بلوچستان نے اب تک تحریری طورپر ایئر ایمبولینس خریدنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جس پر عدالت عالیہ نے کہا کہ چونکہ بلوچستان حکومت کے پاس پہلے سے تین جہاز موجود ہیں اس لئے صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ صوبائی حکومت کو کسی بھی نئے جہاز یا ایئر ایمبولینس خریدنے سے روکا جاتا ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نوٹس ان احکامات کے ساتھ جاری کیا جاتا ہے کہ وہ بلوچستان حکومت کے زیر استعمال جہازوں کی لاگ بک اور استعمال کی نوعیت کیا ہے اور کتنے لوگوں نے اور کس کس وقت استعمال کیا۔ کیا وہ جہاز استعمال کرنے کے مجاز تھے یا نہیں؟ ان جہازوں پر آنے والے اخراجات کتنے ہوئے اور اس میں کتنے مریضوں اور لوگوں نے سفر کیا ہے ایک سال کی مکمل رپورٹ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا آفیسر خود عدالت میں پیش ہوکر جمع کرائے اور حکومت بلوچستان کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ پائلٹس کی ٹریننگ اور جہازوں کے غیر ضروری استعمال سے فوری طورپر روکنے کے ساتھ ٹرینگ پر آنے والے اخراجات مکمل تفصیل کے ساتھ عدالت عالیہ میں جمع کرانے سماعت کے دوران عدالت عالیہ کو شکیل احمد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے ڈی ایچ کیو ہسپتال تربت بدستورخستہ حال اور مسائل کا شکار ہے عدالتی احکامات کے باوجود نہ ہی کیسکو نے بجلی کا مسئلہ حل کیا ہے اور نہ ہی چیف میٹروپولیٹن آفیسر نے ہسپتال میں صفائی کرائی ہے۔ جس پر جسٹس کامران ملا خیل نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایکسین کیسکو اور چیف آفیسر تربت کو توہین عدالت نوٹسز جاری کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں