چین، بھارت سرحدی تنازع: نریندری مودی کا لداخ میں اگلے مورچوں کا دورہ
لداخ :بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے بعد لداخ کا دورہ کیا ہے جہاں اُنہیں بھارتی فوج کی جانب سے علاقے کی تازہ ترین صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔
جمعے کو نریندر مودی نے ایسے وقت میں لداخ کا دورہ کیا جب چین کے ساتھ سرحدی تنازع پر حال ہی میں ہونے والی جھڑپوں میں 20 بھارتی فوجی ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔البتہ چین نے اپنے فوجیوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی تھیں۔
جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں نے علاقے میں فوجی تنصیبات میں اضافہ کر دیا تھا۔ کشیدگی ختم کرنے کے اعلانات کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق بھارت کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بپن راوت اور آرمی چیف منوج موکنڈ نراوانے بھی لداخ کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ اعظم مودی نے لداخ میں ‘نمو’ کے مقام پر اگلے مورچوں پر فوجیوں سے خطاب کیا۔
دورے کے دوران بھارتی نریندر مودی کو علاقے کی تازہ ترین صورتِ حال پر فوجی حکام نے بریفنگ بھی دی۔
بھارت کے وزیرِ اعظم کو گزشتہ ماہ لداخ کی وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد تنقید کا سامنا تھا۔
بھارت کی اپوزیشن جماعتیں خصوصاً انڈین نیشنل کانگریس نے وزیرِ اعظم مودی کی پالیسی پر تنقید کی تھی۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں کا اصرار تھا کہ بھارتی وزیرِ اعظم چین کے ساتھ تنازع کے حقائق سامنے لائیں۔
نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارتی فوج نے لداخ میں چینی افواج کو بھرپور جواب دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت دوستی نبھانے کے علاوہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول بھارتی وزیرِ اعظم کے اس دورے سے فوج کا مورال بہتر ہو گا۔
بھارتی وزیرِ اعظم نے دورے کے دوران اسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے بھارتی فوجی زیرِ علاج ہیں۔
یاد رہے کہ لداخ کا کل رقبہ 45 ہزار مربع میل یعنی ایک لاکھ 17 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ اس کے جنوب مشرق میں لداخ رینج، قراقرم رینج اور دریائے سندھ کے بالائی کے علاقے شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب یہ گلگت بلتستان سے جا ملتا ہے۔ کارگل اور سیاچن اسی حصے میں واقع ہیں، جسے دنیا کا بلندترین محاذ جنگ کہا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلو میٹر طویل سرحد کی مستقل حد بندی اب تک نہیں ہوئی ہے۔ سرحدی حد بندی پر دونوں ملکوں کا الگ الگ مؤقف ہے۔ 1962 میں سرحدی تنازع پر دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔


