حکومت ریٹائرڈ اساتذہ کے واجبات ادا کرے، بصورت دیگر عدالت جائیں گے، پنشنرز
کوئٹہ (آن لائن) پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ اساتذہ کی بہبود فنڈ اور گروپ انشورنس کی مد میں کروڑوں روپے حکومت پر واجب الادا ہونے کے باوجود ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لےا جارہا ہے اگرادائیگی نہ کی گئی تو عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر واجہ محمد یوسف کہدہ‘حاجی عبدالستار رند، رانا غلام رسول، محمد کریم، محمد رمضان زہری و دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان نے پی ڈبلیو اے بی کی درخواست پر بلوچستان بھر کے 90 ہزار ریٹائر ڈملازمین کے حق میں فیصلہ دیکر 2021ءمیں وفاق اور تینوں صوبوں کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیاتھا لیکن بلوچستان کو اس حق سے محروم رکھا گیا جس پر پی ڈبلیو اے بی نے ارباب اختیار سے اپیل اور احتجاج بھی کیا اس کے باوجود ملازمین کو ان کا جائز حق نہیں ملا پی ڈبلیو اے بی نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا اور چیف جسٹس نعیم اختر افغان نے حکم صادر کیا جس پر حکومت نے 4 ارب روپے کا بجٹ مختص کرکے ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کو فی کس 50 ہزارسے لیکر 10 لاکھ روپے 29 ماہ کے واجبات کی صورت میں بقایا جات ادا کئے جس پر ہم چیف جسٹس بلوچستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید ہے کہ ریٹائرڈ اساتذہ کا ایک اور دیرینہ مسئلہ بہبود فنڈ اور گروپ انشورنس کی مد میں کروڑوں روپے حکومت پر واجب الادا ہیں جوحکومت ادا کرنے سے گریزاں ہے اگر ہمارا جائز مسئلہ حل نہ ہوا تو احتجاج اور عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹاکر پٹیشن دائر کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔


