مڈل اسکول تانجو مشکے کی خستہ حالی اور ضلعی افسران کی عدم توجہ

تحریر: سلطان فرید
اگر بلوچستان بالخصوص آواران کے تعلیمی نظام پر نظر ڈالیں تو ہمیں پورے ضلع آواران میں کئی ایسی جگہیں ملتی ہیں جہاں اسکولوں کی عمارت تو ہیں مگر پڑھنے کیلئے طالبعلم اور پڑھانے کیلئے استاد نہیں، کچھ ایسی جگہیں ہیں جہاں عمارت اور طالبعلم دونوں ہیں مگر پڑھانے کیلئے استاد موجود نہیں اور کچھ ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں پڑھانے کیلئے استاد اور پڑھنے کیلئے طالبعلم تو ہیں مگر پڑھنے کیلئے عمارت نہیں۔ ایسی ہی 350 سے متجاوز طلباءطالبات اور دو کمروں پر مشتمل ایک اسکول مڈل سکول تانجو مشکے ہے جو گجر شہر کے عین مرکز پہ واقع ہے جو کہ فریدی اسکول کے نام پر پورے علاقے میں مشہور ہے (فرید بیراج راقم کے والد محترم ہیں جو کئی عرصے سے اسی اسکول میں ٹیچر ہیں)۔ اس اسکول کا قیام 1987 میں لایا گیا BEMIS کی رپورٹ برائے سال 1992 کے مطابق اس وقت اس اسکول میں 57 لڑکے اور 33 لڑکیاں پڑھتی تھیں اور ان کو دو استاد پڑھاتے تھے لیکن جب میں سال 2010 کے دوران پڑھ رہا تھا تو اس اسکول کی تعداد 250 سے تجاوز کرچکی تھی، تحصیل مشکے میں مڈل اسکول تانجو بہتر ین پرائمری اسکول کے طور پر جانا جاتا ہے اور والدین دور دور سے اپنے بچوں کو اسی اسکول میں پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں تاکہ وہ بہتر اور معیاری بنیادی تعلیم حاصل کرسکیں اور اس اسکول کی جانب سے ابھی تک وہی تسلسل جاری ہے آج تک یہ اسکول اپنے بہترین اور معیاری نظام تعلیم کی وجہ سے جانا جاتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام بالا اور ضلعی آفیسروں کی عدم توجہ کی وجہ سے اس اسکول کو ہمیشہ کی طرح آج بھی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا ہے۔ جون 2019ءسے مڈل کا درجہ پانے والا یہ اسکول آج یعنی 2024 کو 5 سال گزرنے کے باوجود ان ہی دو کمروں پر مشتمل ہے جو کہ 2000ءسے پہلے اس اسکول کیلئے بنائے گئے تھے یہ دو کمرے 350 سے زائد طلباءو طالبات پر مشتمل مڈل اسکول کیلئے اب انتہائی ناکافی ہیں بنیادی سہولیات اور عمارت کے نہ ہونے کی وجہ سے کئی طالبات کو اسکول انتظامیہ کی جانب سے دوسرے اسکول بھیجا گیا۔ اسکول میں زائد تعداد ہونے کی وجہ سے کئی طالبعلم آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، پرائمری اسکولنگ کا کسی بھی بچے کی تعلیمی سفر میں ایک انتہائی اہم کردار ہے اور ضلع آواران میں بہت ہی کم ایسے اسکول ملیںگے جہاں اس طرح کا بہتر بنیادی تعلیم مہیا کی جائے اگر ہم مڈل اسکول تانجو کی تعلیمی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں ضلع آواران میں بمشکل کوئی ایسی بہترین تعلیمی معیار پر مشتمل مڈل اسکول مل سکے جہاں تمام تر سہولیات نہ ہونے کے باوجود بھی معیاری پرائمری ایجوکیشن مہیا کی جارہی ہے اور والدین اپنے بچوں کو پوری امید کے ساتھ اس اسکول میں داخلہ دلواتے ہیں تاکہ ان کی تعلیمی سفر کی شروعات ایک اچھی اور بہتر اسکول سے ہو اس اسکول سے کئی طلبا و طالبات فارغ ہوکر ملک کی بڑے بڑے یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوچکے ہیں اگر ہم اس اسکول کی مڈل ایجوکیشن یعنی جماعت ششم سے لیکر جماعت ہشتم کی کمزوری کی بات کریں تو اس کی تمام تر ذمہ داریاں ضلعی افسران اور پچھلے ادوار کی حکومتوں کو جاتی ہیں چونکہ کسی بھی مڈل اسکول کا انحصار سیکنڈری اسکول ٹیچر پر ہوتا ہے لیکن مڈل کا درجہ پانے سے لیکر آج تک مڈل اسکول تانجو اسکول انچارج اور SST سائنس ٹیچر دونوں سے محروم ہے جوکہ مڈل ( جماعت ششم سے لیکر جماعت ہشتم تک) کی کمزوری ایک بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے کئی طالبعلموں کو مڈل کے دوران تعلیمی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑا ہونا یہ چاہئے تھا کہ کسی ہائی اسکول کے درکار تعداد سے زائد (یعنی350 سے زائد) طلباءو طالبات پر مشتمل اس مڈل اسکول کو اس کے بہتر تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر ہائی اسکول کا درجہ دیا جاتا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی دہائیوں سے گجر شہر میں معیاری تعلیم مہیا کرنے والی مڈل اسکول تانجو اساتذہ اور دوسرے تمام تر بنیادی ضروریات سے محروم ہے اور ضلعی آفیسراں اور حکومت وقت کی عدم توجہ اس بہترین اور معیاری تعلیم مہیا کرنے والے اسکول کو اور پسماندگی کی طرف دھکیل رہی ہے جو کہ ہماری تعلیمی گراوٹ کا پیش خیمہ ثابت ہورہی ہے اور یہ عدم توجہ مشکے میں علاقے کے بچوں کے مڈل اسکولنگ پر خاصا اثر انداز ہوسکتی ہے۔
ضلع آواران میں کئی ایسے اسکولز ہیں جہاں عمارت، اساتذہ اور دوسری بنیادی ضرویات کی کمی کا سامنا ہے جوکہ ضلعی آفیسران کی عدم توجہ کی واضح مثال ہے۔ حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ مڈل اسکول تانجو گجر مشکے کو بنیادی ضروریات بشمول عمارت SST اور سائنس ٹیچر فراہم کی جائے تاکہ مڈل اسکول تانجو مشکے اپنی بہتر اور معیاری تعلیم کا سفر جاری رکھ سکے۔ واضح رہے کہ اس وقت طلبا و طالبات کی تعداد 350 سے تجاوز کرچکی ہے اور طلباءو طالبات کی اس تعداد کی دن بہ دن بڑھنے کو مدنظر رکھ کر مڈل اسکول تانجو گجر مشکے کو ہائی کا درجہ دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں