بلوچ خواتین کودہشتگرد کہنے والوں کو بلوچستان میں قبر کیلئے بھی زمین نہیں ملے گی، اختر مینگل

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہمارے خواتین کے مقابلہ میں کیمپ لگا کر انہیں دہشتگرد قرار دینے والے اس دن سے ڈرے جب ان کے قبر کیلئے بھی سر زمین بلوچستان میں جگہ نہیں ملے گی 28جنوری کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام جلسے میں بھر پور شرکت کریں مشرف کے دور میں میرے خلاف سو ایف آئی آرز درج ہوئے موجودہ نگران حکومت کی جانب سے دفعہ 144اور انتخابات سمجھ سے بالا تر ہے 2018کے انتخابات میں ہم نے کلھاڑی سے گائے کو ذبح کیا تھا ایک مرتبہ پھر بی این پی کے کارکن متحد ہوکر تمام سازشوں کا ناکام بنائیں گے کارکن جھنڈے لگاتے ہوئے احتیاط کریں ووٹ ہمیں پھر بھی ملیں گے لیکن ہمارے ساتھی ہمیں دوبارہ نہیں مل سکتے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا سردار اختر مینگل نے کہا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا کارکن جھنڈا لگاتے ہوئے شہید ہوا ہے 2018میں غلام رسول بلوچ زخمی ہوا تھا آپ کی جان ہمارے لیے قیمتی ہے ووٹ ہمیں پھر بھی ملیں گے لیکن آپ ہمیں نہیں مل سکتے بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام 28جنوری کو کوئٹہ میں جلسہ عام ہورہا ہے کارکن بھر پور طور پر اس میں شرکت کریں انہوں نے کہاکہ بلوچ عوام نے ثابت کرناہے کہ بلوچستان کے وارث ہم ہیں یہ فارمی چوزے آئے ہیں پتہ نہیں کس لیبارٹریوں سے ان کو لائے ہیں ان کو اگر بلوچستان کے وارث ہونے کااتنا شوق ہے توپھر ریاستی اداروں کے کہنے پر اسلام آباد میں دوسرے اقوام کے سامنے ہماری مائیں اور بہنوں کو اس طرح بے عزت کیااور ان خواتین نے آپ کاکیا بیگاڑا تھا آپ غصے میں آکر احتجاج کیایہ لوگ آپ کامیراث لینے نہیں گئے تھے آپ کو بھیجنے والوں کو ہم جانتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے نہتے خواتین جو اپنے پیاروں کے بازیابی کیلئے اسلام آباد گئے تھے ریاستی اداروںنے ایک ٹولے کو تیار کرکے انہیں اسلام آباد جا کر ان خواتین کے کیمپ کے سامنے کیمپ لگا کر ان خواتین کو دہشتگرد قرار دیا میں تو کہتا ہوں کہ وہ لوگ اس دن سے ڈرے کہ جب ان کی قبر وں کوبلوچستان کی سرزمین پر جگہ نہیں ملے گی ہمیں معلوم ہے کہ کن لوگوں نے ان کو اسلام آباد بھیجا تھا انہوں نے کہا کہ جب وہ خواتین تربت سے لانگ مارچ کرتے ہوئے نکلے تو ہمارے کارکنوں کے خلاف کئی ایف آئی آر ہوئے ہم حکومت کے ایف آئی آروں سے نہیں ڈرتے بلوچستان نیشنل پارٹی چلتن کی پہاڑی کی طرح مضبو ط ہیں نگران حکومت کی طرف سے دفعہ 144اور انتخابات یہ دونوں الگ الگ اعلانات ہیں مشرف کے دور میں میرے خلاف 100ایف آئی آر ہوئے ہم نگران وزرا کو بھی کہتے ہیں کہ جب ہمارے خلاف 100ایف آئی آر ہوجائے تو پھر دیکھا جائے بی این پی کے کارکن گھر گھر جاکر ناراض دوستوں کو منائے اور انہیں ووٹ ڈالنے کیلئے پولنگ سٹیشن لائے تاکہ ہم ان لوگوں کو شکست دیدیں جن کو لا کر ہمارے خلاف کھڑا کیا ہے ،ہم بلوچ قوم کے ننگ وناموس کے وارث ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں