بھارت میں کانگریس پارٹی کے منجمد بینک اکاﺅنٹس عارضی طور پر بحال کردیے گئے

نئی دہلی(صباح نیوز) بھارت میں2024 کے عام انتخابات سے قبل بی جے پی حکومت نے کانگریس پارٹی کے بینک اکاونٹس منجمد کر دیے ہیں تاہم انکم ٹیکس اپیلٹ ٹریبونل نے پارٹی کو عارضی طور پر اکاونٹس استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔انکم ٹیکس اپیلٹ ٹریبونل اس معاملے کی سماعت اگلے ہفتے کوے گاکانگریس کے خزانچی اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتاےا ہے کہ کانگریس پارٹی کے کھاتوں پر پابندی انکم ٹیکس اپیلٹ ٹریبونل کی سماعت تک ہٹا دی گئی ہے۔ ٹریبونل کو بتایا گےا ہے کہ اگر پارٹی کے اکاونٹس منجمد رہے تو کانگریس "انتخابی پروگراموں” میں حصہ نہیں لے سکے گی۔ انکم ٹیکس اپیلٹ ٹریبونل سے اکاونٹس استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ قبل ازیں کانگریس پارٹی کے ترجمان اجے ماکن نے جمعہ کو میڈیا کو بتاےا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ انڈیا کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کے اکاونٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔اجے ماکن نے مزید کہا کہ انڈیا کے محکمہ انکم ٹیکس نے پارٹی کے مالی سال 2018 اور 2019 کے انکم ٹیکس گوشواروں کی تحقیقات کے بعد پارٹی کے چار اکانٹس منجمند کر دیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ٹیکس نے تحقیقات کے سلسلے میں دو اعشاریہ ایک ارب روپے کی ادائیگی کا کہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کا مقصد انتخابات سے قبل کانگرس کو ایک طرف رکھنا ہے۔انہوں نے صحافیوں سے سوال کیا کہ قومی سطح پر انتخابات کے انعقاد کے اعلان سے محض دو ہفتے قبل حزب اختلاف کی ایک اہم پارٹی کے اکانٹس منجمد کر دیے گئے ہیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جمہوریت زندہ ہے؟ناقدین اور سیاسی حقوق کے اداروں نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اپنے سیاسی دشمنوں کو نشانہ بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی، جن کے خاندان کا دہائیوں تک انڈین سیاست پر غلبہ رہا، کو مودی کی پارٹی کے ایک رکن کی شکایت کے بعد گزشتہ سال ہتک عزت کے کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔ہتک عزت کیس میں دو سال قید کی سزا کی وجہ سے ان کو پارلیمان نے نااہل قرار دیا تھا تاہم گزشتہ برس اگست میں سپریم کورٹ نے سزا معطل کر دی تھی جس کے بعد ان کی رکنیت بحال ہوئی۔ادھر ایک روز قبل بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں انتخابی بانڈز کی صورت میں دیے جانے والے بےنامی سیاسی عطیات کی سکیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ دخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل پراشانت بھوشن نے عدالت کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈز سکیم اور ان تمام دفعات کو ختم کر دیا ہے جو اس سکیم کے نفاذ کا سبب تھے۔اس سکیم کے تحت کوئی بھی شخص بینک سے خریدے گئے انتخابی بانڈز بغیر اپنی شناخت ظاہر کیے سیاسی جماعتوں کو عطیہ کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں