اسرائیل پر مزید قانونی دباﺅ ڈالنے کی جنوبی افریقہ کی درخواست عالمی عدالت انصاف نے مسترد کردی
دی ہےگ (صباح نیوز)عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل پر مزید قانونی دبا ڈالنے کی جنوبی افریقہ کی درخواست مسترد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اسرائیل پہلے عبوری عدالتی فیصلے کے مطابق فلسطینیوں کے تحفظ کے حوالے سےموجودہ اقدامات کی تعمیل کرنے کا پابند ہے۔ جنوبی افریقا کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ حالیہ پیش رفت خطے کے لیے ایک "ڈراﺅنا خواب” جس کے نتائج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔دی ہیگ میں قائم عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ "غزہ کی پٹی اور خاص طور پر رفح میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اس چیز کو بہت زیادہ بڑھا دے گی جو پہلے سے ہی ایک انسانی خوفناک خواب ہے جس کے علاقائی اثرات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا”۔عدالتی فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ غزہ اور خاص طور پر رفح کی خطرناک صورتحال کو "26 جنوری کو عدالت کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے میں شامل عارضی اقدامات کے فوری اور موثر نفاذ کی ضرورت ہے جو غزہ کے تمام حصوں بہ شمول رفح پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس لیے اضافی عارضی عبوری اقدامات جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔عدالت انصاف نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل "نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرنے کا پابند ہے۔ مذکورہ حکم (جنوری میں عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے فیصلے) میں غزہ میں شہریوں کی جانوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی گئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ نے گذشتہ جنوری میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس نے اسرائیل پر غزہ میں جنگ کے دوران فلسطینیوں کی منظم نسل کشی کی نشاندھی کی تھی گزشتہ منگل کو جنوبی افریقہ کی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے عدالت سے اس بات پر غور کرنے کو کہا ہے کہ آیا "غزہ میں زندہ بچ جانے والوں کی آخری پناہ گاہ رفح میں اپنے فوجی آپریشن کو آگے بڑھانے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف عدالت ہنگامی اقدامات کرے۔جمعرات کو اسرائیل نے جنوبی افریقہ کی تازہ ترین درخواست کے بارے میں اپنے مشاہدات عدالت میں پیش کیے اور کہا کہ اسے "افسوس ہے کہ جنوبی افریقہ ایک بار پھر عبوری اقدامات کے بارے میں عدالت کے فیصلے کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے”۔ جنوبی افریقہ درخواست اشارہ کرتی ہے کہ غزہ میں کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے حالانکہ غزہ کی صورت حال میں ایسا کچھ نہیں ہے۔درخواست کے مسترد ہونے کے باوجود جنوبی افریقہ نے آئی سی جے کے تازہ ترین فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان ونسنٹ میگونیا نے جمعے کی شب جاری بیان میں کہا کہ عدالت کے اس فیصلے نے اس بات کی توثیق کی کہ غزہ میں خطرناک صورت حال میں ہنگامی اقدامات کے فوری اور موثر نفاذ کی ضرورت ہے، جن کا عدالت نے اپنے 26 جنوری کے فیصلے میں بھی حکم دیا تھا۔ترجمان کے مطابق: عدالت نے واضح طور پر وضاحت کی ہے کہ موجودہ عارضی اقدامات کی تعمیل کے لیے اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں تمام فلسطینیوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں کم از کم 28,775 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔


