پاکستان کو اگر کسی جج یا جرنیل نے بچانا ہے تو اس کا واحد راستہ توبہ ہے، محمود خان اچکزئی

پشین (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے 2024کے دھاندلی زدہ ، فراڈ اور انجینئرڈ الیکشن کے خلاف چار جماعتی اتحاد کی جانب سے پشین میں احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحرانوںمیں گرے ہو ئے ملک کے بار ے میں شروع دن سے ہم کہتے چلے آرہے ہیں کہ ملک کے بحران روز بروز گہرے ہوتے جارہے ہیں ، میں نے تجویز دی تھی کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز جس میں سیاسی پارٹیاں ، عدلیہ، صحافی ، فوج انتظامیہ اور سول سوسائٹی کے ماہرین کی چند روز کانفرنس بلالیں اور اس میں بیٹھ کر ملک کے بحرانوں پر سوچا جائے اور سب کی رضا مندی سے قابل قبول حل نکالا جائے لیکن ہماری تجویز نہیںسُنی گئی جو کہتے ہیں غریب مُلا کی اذان پر ہر کوئی روزہ نہیں کھولتا ۔ آج ایٹمی طاقت معاشی طور پر کنگال ہے اور دنیا کے بنکوں سے ناروا سخت ترین شرائط پر قرضہ مانگ رہا ہے اگر چہ ملک قدرت کے خزانوں ، بہترین موسموں اور محنت کش انسانوں سے بھرا ہے اور ملک بھیک مانگنے پر مجبور ہے ان کی وجوہات پر سوچنا ہوگا۔ ملک کو جج ، جرنیل نہیں25کروڑ عوام نے بچانا ہوگا ۔ آج بھی تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے آگے جانا ہوگا اور ماضی کے کرتوتو ںپر توبہ کرنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دنیا کے مشہور انٹلیجنس ادارے سی آئی اے اور کے جی بی کا کردار اتنا ہے کہ منتخب حکومت کے سامنے اپنے معاملات کی بنیاد پر مستقبل کا نقشہ رکھ لیتے ہیں باقی کا م سیاستدانوں اور عوام کے نمائندوں پر چھوڑ دیتے ہیں ۔یہاں ریاست کے سب سے اہم ستون مقننہ کے انتخابات میں جیتنے والوں کا راستہ روکتے ہیں اور ہارنے والوں کی کامیابی کا اعلان کرتے ہیں ۔ انتخابات میں بدترین دھاندلی اور انتخابی نتائج میں ردو بدل کیخلاف ضلع پشین میں چار جماعتی اتحاد کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ عام میں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ بحرانی حالت کا حل اس میں ہے کہ تمام ملک کی سیاسی پارٹیاں ، جرنیل ، صحافی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا گول میز کانفرنس بُلاکر ایک ٹیبل پر بٹھائیں اور سب اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے معافی مانگیں اور توبہ کریں ۔ لوگ پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہتے ہیں ۔ آج پاکستان انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑ اہے ، ہم سب سیاستدانوں ، ججوں ، جرنیلوں کی بداعمالیوں کے گناہوں کے نتیجے میں آج اس ملک کی حالت یہ ہے کہ یہ ایٹمی قوت کاملک ہے لیکن قرضدار ہے اور بھیک مانگ رہا ہے ۔ یہ ملک دنیا جہاں کے وسائل سے پُر ملک ہے لیکن بینک خالی ہیں یہاں کے چند انسان ارب پتی ہیں اور ملک کو مسلسل لوٹ رہے ہیں پوری دنیا میں یکا وتنہا ہے اورقابل اعتبار نہیں ۔ پشتوکہاوت ہے کہ غریب موذن کی اذان پر لوگ روزہ نہیں توڑتے اگر چہ ہم نے سالوں سے انہیں یہ اذانیں دیں کہ ملک خطرناک صورتحال کی جانب گامزن ہے لوگوں نے ہماری بات اس لیئے نہیں سُنی کہ یہ چھوٹی پارٹی کے لوگ ہیں ۔ ہم نے مسلسل اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے انہیں ملک کو صحیح سمت میں چلانے کیلئے کہا ہم بُرے لوگ نہیں ہیں آج بھی دوسرا راستہ نہیں ہے پاکستان کو اگر کسی جج ، جرنیل نے بچانا ہے تو اس کا واحد راستہ توبہ ہے سب نے توبہ کرنا ہوگا۔جلسہ عام سے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین اول مرزا حسین ہزارہ ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال ، ملک نصیر احمد شاہوانی ، داﺅ دچنگیزی ، یونس بلوچ، عبدالحق ابدال ، عمر خان ترین ودیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلع ڈپٹی سیکرٹری علی محمد کلیوال نے سرانجام دیئے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سی آئی اے اورکے جی بی بھی مداخلت کرتی ہوگی سیاست میں لیکن اس طرح نہیں کرتی کہ الیکشن میں جیتے ہوئے لوگوں کو ہراکر اپنی مرضی کے لوگوں کو کامیاب کراتی ہے بلکہ جو کامیاب ہوتے ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر انہیں اپنی پالیسیوں سے آگاہ کرتی ہیں ، سننے میں آیا ہے کہ چمن کے مولوی صلاح الدین کو بٹھایا گیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ کوئی کاغذ تیار کرو ہم قومی اسمبلی کی یہ نشست آپ کو دیں گے۔ کاغذ تیار کرنے کی ضرورت نہیں کسی کو ہم بُرے لگتے ہیں تو ہم یونہی یہ نشست چھوڑ دیتے ہیں اور پھر اپنے عوام کی اپنی اسمبلی بنائیں گے ۔ پاکستان کی عدالتی نظام اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کسی سرمایہ دار نے غریب آدمی کی ناموس پر دعوہ کیا تو عدالت میں سرمایہ دار جیت جائیگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک ایسے جمہوری پاکستان کے بنانے کی کوشش کرنی ہوگی جس میں آئین بالادست ہو ، پارلیمنٹ خود مختار ہو ، قوموں کے وسائل پر ان کے بچوں کا اختیار ہو ، پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے ملک کے فیڈریشن کو پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی اور پنجابی اقوام کی برابری کا فیڈریشن بنانا اور دیکھنا چاہتے ہیں اور ملک کے اقوام اپنے اپنے تاریخی مادر وطنوں پر آباد ہیں اس جلسہ میں ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو عمر کے لحاظ سے پاکستان سے بڑے ہیں ان اقوام کے یہ تاریخی وطن انہیں کسی نے زکوة یا خیرات میں نہیں دی ہے بلکہ ہزاروں سالوں سے اپنے آباﺅاجداد کے سروں کی قربانیوں کے نتیجے میں یہ وطن ہمارے لیئے زور آور طالع آزماﺅں سے بچایا ہے اور آج ہم پر یہ اُدھار ہے کہ چاہے آسمان سے گولیاں برس رہی ہوں یا زمین سے ہم نے اپنے وطن کی سرزمین کی دفاع کرنی ہوگی۔ یہ ہمارا وطن ہے آئیں انہیں مل کر بناتے ہیں ۔ بڑی مشکلوں سے اس ملک میں ایک آئین بنی اگر چہ اس آئین پر بھی لوگوں کو اعتراض ہونگے ہمارے پشتونوں کا اس آئین کے تحت اپنی تاریخی پشتون سرزمین کا ایک ساتھ متصل قومی صوبہ نہیں ہے اور ایک اعتراض یہ کہ آئین ہمارے تاریخی وطنوں میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے دیئے گئے قدرتی نعمتوں پر ہمارے وطنوں کے بچوں کے پہلے حق تسلیم نہیں کی جاتی جو کہ قرآن کریم ، اقوام متحدہ کے قوانین اور دنیا کے تمام ممالک کے آئین کی رو سے ہمارا حق ہے یہ حق اب تک ہمیں حاصل نہیں ہمیں اپنی مادری زبانوں سے محروم رکھا جارہا ہے ہماری مادری زبانوں کو سرکاری ،تعلیمی ، دفتری ، عدالتی زبانیں قرار نہیں دیا جارہا گزشتہ روز 21فروری پوری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا ہم خود کو مسلمان سمجھتے ہیں ۔ قرآن کریم پر ہمارا ایمان ہے اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی قوم میں کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کی زبان کوئی اور ہو ۔تمام الہامی کتابیں جو پیغمبروں پر نازل ہوئیں اس قوم کے زبان میں تھیں جب خدا کے ہاں بھی زبانوں کی قدر ہے اور ہم یہاں قومی زبانوں سے انکاری ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے مادری زبانوں کی اہمیت کے بار ے میں حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرے کسی عزیز نے مجھے بتایا کہ میں اپنے ایک بچے کو سویڈن کے کسی سکول میں داخل کرانا چاہتا تھا تو سکول والوں نے بچے کی مادری زبان کا پوچھا میں نے کہا کہ مادری زبان پشتوہے ۔ تو سکول انتظامیہ نے دوسرے دن پشتو اُستاد کا انتظام کیا ۔ پوری دنیا میں مادری زبانوں میں تعلیم مسلمہ قانون ہے ہمارے ہاں شجر ممنوعہ ۔ بلوچ اور پشتون زبردستی اُردو سیکھتے ہیں لیکن سیکھ بھی نہیں پاتے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس ملک کو ہم چلانا چاہتے ہیں گزرا ہوا بھول جائیں گے اور یہ بھول جانا اتنا آسان نہیں اس میں ہمیں ہمارے وطن کے بچوں کو بوڑھوں ، نوجوانوں کو ہزاروں سال جیلیں قید وبند ، مارپیٹ ، قتل عام ، بمباری ، شہدا ، زخمی معیوب اور ہر طرح کی ایسی ناکردہ گناہوں کی سزائیں شامل ہیں جسے بھول جانا نا ممکن ہے لیکن پھر بھی ہم یہ سب صرف اس لیئے بھول جائیں گے کہ ہمارے ساتھ ایک ایسا جمہوری پاکستان بنائیں جس میں طاقت کا سرچشمہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہو ۔ عوام کے ووٹ سے منتخب کردہ نمائندوں کو پارلیمنٹ بھجوائیں اور پھر ملک کی داخلہ وخارجہ پالیساں پارلیمنٹ سے تشکیل ہو ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کی افواج اور جاسوسی ادارے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں ، ایسا پاکستان کیلئے میں سندھی ،سرائیکی اور بلوچ سے بھی درخواست کرونگا کہ قیامت تک چلائینگے۔ اور ایسا پاکستان جس میں آپ ہمیں غلام ، ہمارے ووٹ کی بے قدری اور قوموں کی توہین ہو ایسے پاکستان کومیں زندہ باد نہیں کہہ سکتا ۔ نظریہ پاکستان ہمارا قرضدار ہے ، نظریہ پاکستان کے تحت ہم بلوچوں ، سندھیوں اور پشتونوں کو ہزاروں سال جیلیں دی گئیں ۔ ہمارے اکابرین کی جدوجہد سے ووٹ کا حق ملا ۔ لیکن آج ایسا کام ہورہا ہے کہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جسے چاہیں وہ ممبر ہوگا۔ پورا ملک اس الیکشن سے یہ توقع کررہے تھے کہ اس کے نتیجے میں سیاسی استحکام آئیگا اور ایک نئے اور جمہوری پاکستان کی تشکیل ہوگی لیکن دھاندلی زدہ انتخابات سے ملک کے جمہور کی امیدیں پاش پاش ہوگئی ۔ آپ نے انتخابات دیکھ لیئے عوام نے پشین کی دو صوبائی اسمبلی کی نشستوں سمیت قلعہ عبداللہ ، چمن اور کوئٹہ میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے امیدواروں کو چنا ۔ رات کو ڈپٹی کمشنرز ، R-O، ڈی آر اوز کے دفاتر محاصرہ ہوئے لوگوں نے اسلحوں سمیت سرعام ٹھپے مارے اور نتائج تبدیل کیئے ۔ یہ پشتون وطن ہے یہاں ہر بات پر ہر چیز کا حساب ہوگا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشین میں پیسوں کے ذریعے ووٹ اور سرکاری عملے کے خریدنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے اُنہیں چیلنج کیا کہ آپ اپنے والدین اور اہل وعیال سمیت قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہہ دیں کہ یہ نشستیں آپ نے عوام کی رائے سے جیتی ہیں ہم بالکل دستبردار ہوجائیں گے لیکن اس وطن میں اس طرح گزارا مشکل ہوجائیگا ۔ آپ جس کے درپر پڑے ہیں وہ ہمیں التجائیں کرتے ہیں ۔ لیکن ہم جمہوری پاکستان اور اس کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خدارااس ملک پر رحم کریں اس ملک کو اس طرف نہ لے جائیں کہ پھر کچھ واپسی ناممکن ہو ۔ ہم لندن میں 36سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اگر چہ ہمارے ساتھ اُس وقت ANPاور PTIشامل نہیں تھیں لیکن لندن میں وہ سب بھی آئیں اور وہاں ہم چھتیس پارٹیاں مل بیٹھیں اورہم سب نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک جمہوری پاکستان بننا ہوگا ،فوج سیاست میںمداخلت سے باز رہے گی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے کیونکہ اُنہیں سیاست اور جمہوری سیاست کی پاداش میںشہید کیا گیا ۔ بےنظیر لندن میں تھیں پرویز مشرف نے چوہدری پرویز الہی اورچوہدری شجاعت کے ذریعے انہیں پیغام بھجوایا کہ میرے ساتھ بات کرلیں کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ لندن میں آمریت کے خلاف ایک مضبوط سیاسی تنظیم بننے جارہی ہے ان کا راستہ روکنا ہے ۔ اسی دوران NROکیا گیا اور ہزاروں لوگوں کے وہ بڑے بڑے 9000قتل وغارت ، چوریوں ، ڈکیتیوں ودیگر کیسز واپس لیئے گئے جس کے بعد بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں آج جس نے بھی لوگوں کو بلایا ہے آج یہ لوگ جو خود کو پاکستان کے مالکان سمجھ رہے ہیں کیا انہیں یہ پتہ نہیں کہ جن لوگوں سے انہوں نے پیسے لیکر کامیاب کروایا ہے وہ ڈرگ ، ہیروئن اسلحے کے سمگلرہیں ۔ پاکستان ہمیں عزیز ہے اور آپ لوگ اسے سمگلرز کے ذریعے چلارہے ہو؟ ہم غیروں کو نہیں بلائینگے کہ دوسری دنیا کے لوگوں سے نہیں کہینگے کہ آکر ہماری مدد کریں ۔ لیکن ہم تمام دنیا کے جمہوری ملکوںسے یہ ضرور کہینگے کہ آپ لوگوں کی امداد پاکستان میں ایک جمہوری حکومت پر منحصر ہوگی ۔ اگر جمہوری حکومت نہ ہو پھر آپ جانیں اور مافیا کے کیئے کام ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چمن پرلت میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان لوگوں کے رزق کے راستے لوگوں نے گھیر رکھے ہیں ،ہمارے افغانستان کے ساتھ دس بارہ جگہوں پر راستے ہیں ان سب پر سوائے اسلحہ اور منشیات کے تمام اشیاءضروریہ کی تجارت جائز اور قانونی ہے اور اس کیلئے پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید ، انٹلی جنس چیف ، حکومتی نمائندے ، کسٹم ، نادرا ، پاسپورٹ ، تاجر، چیمبر آف کامرس کے نمائندے شامل تھے انہوں نے باقاعدہ افغان حکومت کے ساتھ افغانی تذکرہ اور پاکستانی شناختی کارڈپر بات چیت کی اور ایک فارمولہ طے کیا لیکن پھر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ۔ چمن کے لوگوں کو اپنے ہی زمینوں میں جانے کیلئے پاسپورٹ کی شرط رکھ دی گئی ۔ محمود خان اچکزئی نے چمن کے معززین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پرلت کے غریبوں کیلئے 16یا 17کروڑ روپے چندہ اکھٹا کرکے غریب متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم کی۔ہمارے لوگوں کو راستہ نہیں دیا گیا تو اس تار کو اُکھاڑ پھینکےں گے ۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی 1934ءمیں اس تھانے(پشین ) میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ یہ وطن ہمارا ہے انگریز کو یہاں سے جانا ہوگا۔ پشین کے جرگے کے ذریعے انہیں سزائیں ملی آج ان کی قربانیوں کی بدولت پشین کے تھانے کے ساتھ خان شہید کے ہزاروں پیروکار بیٹھے ہیں اور ان کی نظریات کو پھیلا رہے ہیں آج پشین خان شہید کے افکار، جمہوریت،آزادی اور خودمختاری کا مرکز ہے ۔ وہ وقت گزر چکا ہے جب آپ خان شہید کو جیلوں میں ڈالتے اورلوگ کچھ نہیں کہتے ، آپ کسی بچے کو مارتے اور لوگ خاموش بیٹھتے ۔ آج سب کان کھول کر سن لیں ہمارے بچوں کو کسی نے مارا تو پھر کوئی بھی زندگی آرام سے نہیں گزار سکے گا۔ ہم نے ووٹ جیتا ہے ۔ میں اپنے اُن لوگوں سے کہتا ہوں کہ کیا آپ کو شرم نہیں آتی کہ ہم ووٹ جیت چکے ہیں اور آپ پیسوں کے ذریعے ہماری جیتی ہوئی سیٹیں خریدتے ہو ۔ آپ ہمارے وطن اور قوم کا حصہ نہ ہوتے اور ایسا کام کرتے تو پھر آپ کو پتہ چل جاتا ۔ ہماری جیتی ہوئی سیٹیں نہ دی گئیں تو ہم بلوچوں کے ساتھ ملکر فیصلہ کرلیں گے کہ آئندہ ایسا الیکشن لڑانا بھی ہوگا یا نہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم صرف ایک خدا کی خدائی کو مانتے ہیں اور ہمارے آباﺅاجداد ہماری ماﺅں نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ سجدہ صرف ایک خدا کیلئے جس طرح اقبال کہتا ہے یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزاروں سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات اگر کسی کا یہ خیا ل ہے کہ ہم خدا کے سوا ان کی غلامی قبول کریں گے یہ حکمرانوں کی خام خیالی ہوگی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشین کے لوگوں نے اُس وقت بھی اپنے وطن پر ننگ کیا تھا جب جارجیا کے گورگین اس وطن پر قابض تھے ، میروائس نیکہ نے جب ان کے خلاف جدوجہد کی تو اس میں پشین کے عوام کا بڑا حصہ تھا ۔ اور میروائس نیکہ جب ایرانی صفوی حکومت کے خلاف جب اپنے وطن کی آزادی کیلئے صف آرا ہوئے تو اس وقت میروائس نیکہ کے ایک بڑے جرنیل زبردست خان ہزارہ تھے انہوں نے میروائس نیکہ کے ساتھ مل کر ایران کے حکومت کے خلاف لڑے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر ہم اور بلوچ متحد ہوئے اور ایک دوسرے کا سہارا بنے مشترکہ جدوجہد کی تو زندہ باد اور مردہ باد سے ہم اپنے وطن کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں ۔ خیبر پشتونخوا کے پشتونوں کو بھی ساتھ ملالیں گے پھر جب ہم متحد ہوئے تو یہاں جہاز تو کیا پرندہ بھی ہماری مرضی کے بغیر نہیں اُڑ سکے گا شرط یہ ہے کہ بلوچوں نے بھی ہماری بات سننی ہوگی اور یہاں کے پشتونوں کا مسئلہ سمجھنا ہوگا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چندغیر لوگوں نے ہماری تاریخی زمینیں الاٹ کی ہوئی ہیں ہم عدالتوں اور حکومتوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے قبائل کی زمینوں پر کسی کی بھی الاٹمنٹ نہیں مانتے ۔ آج 60کروڑ مسلمان اسرائیل کو بددعائیں دیکر فلسطینیوں کیلئے آزادی دلوانا چاہتے ہیں صرف دعاﺅں سے کچھ نہیں ہوگا عوام کو ہمت بھی کرنی ہوگی ۔ ہمیں ہر گھر پر ایک فرد دیا جائے ہمارے مسائل بڑھنے لگیں تو اس کیلئے ہمیں ہمت باندھنی ہوگی یہ مسائل آگے جائیں گے اور بات یہاں پر نہیں رُکے گی مشکلات درپیش ہونگی اس کیلئے ہمیں صف بندی کرنی ہوگی ۔ جلسے کے اختتام میں پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمودخان اچکزئی ودیگر چار جماعتی اتحاد کے قائدین کے اعزاز میں ڈاکٹریار محمدکی جانب سے ظہرانہ دیا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں