نیوزی لینڈ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم کو کالعدم قرار دیدیا، اثاثے منجمد

ویلنگٹن (صباح نیوز) نیوزی لینڈ نے بھی دیگر مغربی ممالک کی طرح فلسطینی مزاحمتی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اثاثے منجمد کر دیئے اورکہا ہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے سیاسی اور عسکری بازو الگ الگ ہونے کا تصور ٹوٹ گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکس نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے اثاثوں کو منجمد کرنے اور انھیں مادی مدد فراہم کرنے پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ نیوزی لینڈ کے وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم نے ہمیشہ اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری علی الاعلان قبول کی ہے اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ وزیراعظم کرسٹوفر لکس نے فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت حمایت جای رکھیں گے لیکن فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے بارے میں اب رائے تبدیل ہوگئی۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم پورے فلسطین کی نمائندگی نہیں کرتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں