پسنی کے علاقے جیٹی میں بیشتر فش اور آئس فیکٹریاں بند،حکام مسئلے کا نوٹس لے،علاقہ مکین
پسنی (نامہ نگار)پسنی جیٹی کھنڈرات میں تبدیل علاقے کی معیشت روز بروز پستی کی جانب رواں دواں ،درجن سے زائد فش اور آئس فیکٹریاں بند ہو گئیں، سینکڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ، تفصیلات کے مطابق پسنی جیٹی علاقے کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کا حیثیت رکھتا تھا اور روزگار کے لئے مکران بھر سے لوگ پسنی کا رخ کرتے تھے، دس سال سے زائد کا عرصہ گزر گئے جیٹی منوں مٹی میں دھنس کر غیر فعال ہے، جس کی وجہ سے مقامی ماہی گیروں سمیت کاروباری افراد نے دیگر قریبی بندرگاہوں کا رخ کر لیا ہے، علاقے میں روزگار کے دیگر ذرائع نہ ہونے سے معیشت روز بروز پستی کی جانب گامزن ہے اوسر بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے واضح رہے کہ پسنی جیٹی کی بحالی کے لیے جاپانی گرانٹ کے پیسے بھی پڑے ہیں لیکن اس اہم علاقائی مسئلے پر حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی ہے اگر حکام بالا کی جانب سے اس اہم حل طلب مسئلے پر توجہ دے کر جیٹی کی ڈریجنگ کرکے فعال بنائی جائے تو نہ صرف علاقے کی معیشت ترقی کرے گی بلکہ اس سے حکومت کو بھی ماہانہ لاکھوں روپے زرمبادلہ حاصل ہو گا۔


