رئیسانی کا ٹھمکا

انور ساجدی
16دسمبر1971ء کو جب بھٹو صاحب نے مغربی پاکستان کو پاکستان کا نام دے کر اقتدار سنبھالا تو عوام میں شدید مایوسی اور افسردگی موجود تھی ایک سال بعد بھٹو نہ صرف وقتی مسائل پرقابو پاچکے تھے بلکہ معیشت بھی اچھے انداز میں چل پڑی تھی اس موقع پر ”بزرگان دین“ نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ کسی طرح سے عوام کا صدمہ ختم کیاجائے چنانچہ بھٹو صاحب نے سندھ کا روائتی فوک سانگ ”ہوجمالو“ کو رواج دیا انکے ہر فنکشن میں یا تو ہو جمالو کی دھن بجائی جاتی تھی پارٹی کے جیالے اس دھن پر دیوانہ وار رقص کرتے تھے اسکے ساتھ ہی انہوں نے پیروں میں گھنگھرو باندھ کر رقص کرنے والے سلیمان شاہ اور الن فقیر کو بھی دریافت کیا لوگ ان کا فن دیکھ کر خوش ہوتے تھے پنجاب سے عالم لوہار چمٹا بجاکر محفلوں کو گرماتے تھے تو بلوچستان کے سب سے بڑے لوک فنکار فیض محمد بلوچ اپنے طنبورے کے ساتھ ایک سماں باندھ دیتے تھے آہنگ اور رقص اورسرور کی ان محفلوں کو سجانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ سانحہ مشرقی پاکستان کوبھول جائیں۔بھٹو صاحب نے سندھ سے تعلق رکھنے والے عبدالرحیم رئیسانی کو بلوچستان کا آئی جی پولیس مقرر کردیا کوئٹہ کے گورنر ہاؤس میں ایک بڑی تقریب کاانعقاد کیا گیا جس میں بیگم نصرت بھٹو بھی بلوچی ڈریس میں ملبوس تھیں جب ہوجمالو کی دھن بجنا شروع ہوئی تو بھٹو صاحب اچانک اٹھے عبدالرحیم رئیسانی کے پاس گئے انہیں کرسی سے اٹھاکر کہاکہ رئیسانی آج اپنے جوہردکھاؤ مجبوراً فربہ جسم والے عبدالرحیم رئیسانی نے ہوجمالو کی دھن پر ٹھمکے لگائے ان کا ساتھ دینے کیلئے بھٹوصاحب نے بھی تالیاں بجائیں بڑے نواب صاحب یعنی نواب غوث بخش رئیسانی یہ منظردیکھ کر پیج وتاب کھارہے تھے جسے بھانپ کر بھٹوصاحب نے کہا کہ نواب یہ آپ کا نہیں میرا رئیسانی ہے اور سندھ کا رہنے والا ہے اس پر میراحق زیادہ ہے نواب صاحب بڑبڑارہے تھے کہ یہ بھٹو صفامسخرہ ہے۔
کابل کے صدارتی محل قصرگل خانہ میں فیض محمدبلوچ نے اپنے جوہر دکھائے جب وہ طنبورہ لیکر آئے تو بھٹو صاحب نے کہا اڑے فیضوخوب گاؤ تمہاری اوریہاں کی زبان ایک ہے۔
بھٹوصاحب کی ان حرکات کی وجہ سے پنجاب کے عوام سقوط ڈھاکہ کاالمیہ بھول گئے اور پیپلزپارٹی کے سانچے میں ڈھل گئے وہ اپنے وزیروں کا بہت مذاق اڑاتے تھے 1975ء میں دنیا میں بیل باٹم کا رواج تھا بھٹو صاحب کوئٹہ آئے تو اپنے بھائی یار اور جگری دوست طاہر محمد خان پرنظرپڑی سیدھا ان کے پاس گئے کہا کہ یار طاہر یہ کیالڑکوں والا حلیہ بنا رکھا ہے تم ”ایلوس پرسلے“ نہیں ہو پھر کہا کہ ایسا لباس پہنو جو سدابہار ہو۔
1976ء کوانسرجنسی ختم ہونے کے بعد بھٹو نے تمام غیر ملکی سفیروں کو کوئٹہ بلایا رات کو جب محفل موسیقی برپا تھی تو بھٹو صاحب نے جام غلام قادر سے کہا کہ زرا آپ بھی میدان میں آئیں لیکن جام صاحب نے بڑی مشکل سے ٹال دیا۔
ایک مرتبہ پشاور کے سروز نواز منیر سروز بجارہے تھے تو بھٹو صاحب نے کہا کہ فیض محمدتم بجاؤ اس نے کہاصاحب جوانی میں خوب بجاتا تھا لیکن بڑھاپے میں صرف طنبورے پرگزارہ ہے۔جب بھٹو صاحب کا دور ختم ہوا تو جنرل ضیاء الحق نے تمام معاملات الٹ دیئے انہوں نے رقص موسیقی اور آوازوں پرپابندی لگادی وہ ہفتہ مہینہ میں قوالی کی محفل برپا کرتے تھے اور صبح تک صابری برادران کوسنتے تھے ملتان میں عزیر میاں قوال وجد میں آگئے تو سیکیورٹی اداروں نے کہا کہ یہ سیکیورٹی رسک ہے اسے آئندہ نہ بلایا جائے وہ اپنے ساتھ ہمیشہ ایک نعت خواں رکھتے تھے جو ہرفنکشن میں
یہ تمہاراکرم ہے آقا کہ بات
اب تک بنی ہوئی ہے
سبی میں ایک محفل شاعرہ میں شرکت کی خواتین کی بڑی تعداد کودیکھ کر ضیاء الحق نے گورنر سے کہا کہ رحیم الدین آپ نے تو قوس قزح اکٹھا کرلیا ہے ضیاء الحق بظاہر جتنے اسلام پسند تھے لیکن خواتین کو دیکھ کر گھل مل جاتے تھے ایک مرتبہ ملتان گئے تو یوسف رضا گیلانی ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین تھے نوجوان اور چارمنگ تھے ان کو دیکھ کر کہا یار خواتین سے تو آپ زیادہ خوبصورت لگ رہے ہیں بھٹو نے سانحہ مشرقی پاکستان کو ہوا اور ہوجمالو میں بھلادیاتھا جبکہ ضیاء الحق آئین توڑنے اور مارشل لاء کے قہر اور جبر کوبھلانے کیلئے روز نظام مصطفی کے نفاذ کی بات کرتے تھے اور اسی نعرہ کے پیچھے سارے ملاصاحبان کو جمع کرلیا تھا ضیاء الحق نے جو خار دار پودے لگائے آج اسکی فصل سارے ملک میں پھیل چکی ہے عوام بھوک وافلاس بیماری اور ناداری کی وجہ سے چورچور ہیں اور ضیاء الحق کے جانشین بری طرح ناکام ہیں لیکن طفل تسلیوں سے عوام کو بہلانے کی کوشش کررہے ہیں عمران خان2014ء سے خواب بیچ رہے ہیں۔کرپشن کے خاتمہ کا خواب عوام کی خوشحالی کا خواب ملک کی ترقی کا خواب نئے پاکستان کا خواب لیکن ان تمام خوابوں کی الٹی تعبیر نکل رہی ہے عوام پر کرونا کی صورت میں مہنگائی اور بھوک کا قہر حکومت کی طرف سے نازل ہے بیشتر وزیراور مشیر غیرسنجیدہ اور مسخرے ہیں اور شدید ناکامی کے باوجود انکے دعوے اورسہانے خواب دکھانے کا سلسلہ جاری ہے۔حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے ”نان ایشوز“ کو اچھالاجارہا ہے کبھی عزیر بلوچ کا مسئلہ لیکر کبھی ن لیگ کی فضول خرچیوں کا واویلا مچاکر عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ موجودہ دور میں کرپشن کی شرح کئی گنا بڑھ چکی ہے کبھی آٹا اور چینی کااسکینڈل کبھی تیل اور پی آئی اے کااسکینڈل اور کبھی وزیروں کی رشوت کا اسکینڈل سراٹھاتا ہے لیکن حکومت کے اعلیٰ ذمہ داروں کو اسکی کوئی پرواہ نہیں پہلے اطلاعات کی مشیر فردوس عاشق اعوان کو رشوت لینے پر برطرف کیا گیا جبکہ گزشتہ روز صوبائی وزیراطلاعات اجمل وزیر کو اشتہاری کمپنیوں سے کمیشن طلب کرنے پر برطرف کردیا گیا۔صحت کے سابق وزیر کو ادویات کی قیمت بڑھانے پربرطرف کرکے پارٹی کاسیکریٹری جنرل بنایا گیا ہراسکینڈل کے بعد وزیراعظم ایک کمیشن بناتے ہیں اور کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد ایک کمیٹی بناکر معاملہ کوداخل دفتر کردیا جاتا ہے یہ1952ء کے بعد پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ معیشت کی شرح نمومنفی ہوگئی ہے اسکے باوجود ترقی اور خوشحالی کے دعوے کررہے ہیں کرونا کے تدراک کیلئے عالمی اداروں نے تقریباً چار کھرب ڈالر دیئے وہ کسی مخصوص مقام پر رکھ دیئے گئے ہیں جبکہ کرونا کے مریض اللہ کے سہارے پر جی رہے ہیں۔سقوط سری نگر سب کے سامنے ہوا لیکن وزیراعظم اور انکی ٹیم نے چند بیانات کے سوا کچھ نہ کیا انڈیا روزحملے کررہا ہے سوائے اسکے ہائی کمشنر کی طلبی کے علاوہ اور کچھ نہیں کیاجارہاہے۔گورننس کا برا حال ہے تمام ادارے بدترین تباہی سے دوچار ہیں لیکن کامیابی کے دعوے کئے جارہے ہیں شائد ”بزرگان دین“کی پشت پناہی کی وجہ سے حکومت کو زعم ہے کہ اسے کوئی ہٹانہیں سکتا۔اس لئے بدانتظامی اور کرپشن کودن دہاڑے دیدہ دلیری کے ساتھ فروغ دیاجارہا ہے دوسری جانب اپوزیشن بھی ناکارہ ہے ایسالگتا ہے کہ یہ کرونا زدہ ہوگئی ہے شہبازشریف ایک طرف بزرگان دین سے مذاکرات کررہے ہیں دوسری جانب حکومت کیخلاف ہفتہ واری بیانات جاری کررہے ہیں انہوں نے پہلے بھی مولانا کو دھوکہ دیا تھا اور آئندہ بھی انکے ارادے ٹھیک نہیں ہیں مرکز میں حکومت اقلیت میں چلی گئی ہے لیکن اپوزیشن میں جان نہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کرسکے حالانکہ مرکز میں بہت اونچی سطح پر صورتحال ٹھیک نہیں ہے وہ پیج جس پر سارے بڑے اکٹھے تھے وہ کرم خوردہ ہوگیا ہے یہ ملک مزید اس طرح کی صورتحال کا متحل نہیں ہوسکتا باقی بڑوں کی مرضی۔
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں