اسرائیلی بمباری میں رمضان کا آغاز، فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قبول نہیں، نیتن یاہو

تل ابیب (این این آئی)رمضان المبارک کے آغاز کے باوجود اسرائیلی جارحیت نہ رک سکی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یکم رمضان کی رات اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کے علاقے رفح میں بمباری کی جبکہ فلسطینیوں کو مسجد اقصی میں نماز کی ادائیگی سے بھی روک دیا۔اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے شہر رفح اور وسطی حصے میں نوصیرات پناہ گزین کیمپ پر اس وقت حملے کیے جب فلسطینی رمضان کا پہلا روزہ رکھنے کی تیاری کر رہے تھے۔دوسری جانب فلسطینی اسرائیلی فورسز کے سخت حفاظتی اقدامات اور غزہ میں جنگ اور غذائی قلت کے درمیان رمضان المبارک کی تیاری کر رہے ہیں تاہم انہیں مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قبول نہیں کریں گے، اس معاملے کی حمایت کرنے میں ہمارا ملک سب سے آخری ہوگا۔ عرب میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلیوں کی اکثریت کی خواہش کے خلاف خصوصی پالیسیوں پر عمل پیرا نہیں۔ غزہ پر اسرائیلی مظالم جاری ، غزہ سٹی میں اسرائیلی حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت 10 فلسطینی مزید جاں بحق ہوگئے۔ اسرائیلی فورسز نے وحشیانہ حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 100 کے قریب فلسطینی قتل کردیے۔ جنوبی غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوج کے زیر استعمال عمارت تباہ کردی۔ دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں قابض فورسز نے سیکڑوں فلسطینیوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روک دیا۔اسرائیلی فورسز نے رمضان المبارک کے موقع پر یروشلم میں فلسطینیوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روک دیا، اسرائیل نے یروشلم میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس تعینات کردی ہے۔ مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روکنے کے بعد فلسطینیوں نے یروشلم کے پرانے شہر کی سڑک پر نماز تراویح ادا کی ، دوسری جانب رفح شہر میں کئی فلسطینیوں نے شہید ہونیوالی مسجد الفاروق کے ملبے کے درمیان نماز تراویح ادا کی۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے غزہ میں پانچ بچوں کی ماں کا کہنا ہے کہ ہم نے رمضان کے استقبال کے لیے کوئی تیاری نہیں کی کیونکہ اب ہم پانچ مہینے سے روزے رکھے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں