مودی سرکار کا متنازعہ شہریت قانون دنیا بھر سے آوازیں تحفظات کا اظہار
واشنگٹن(آن لائن)ہندوتوا ایجنڈے پر عمل پیرا مودی سرکار کی جانب سے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون 2019 کے نفاذ پر جہاں ملک کے اندر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور وہاں اب بین الاقوامی دنیا نے بھی اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیدیا ہے۔متنازعہ شہریت ترمیمی قانون پر اقوام متحدہ، امریکا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانبسے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارت کے شہریت ترمیمی قانون کو ملک کے انسانی حقوق قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے مودی سرکار کی جانب سے متنازعہ شہریت قانون پر کہا ہے کہ ہم اس قانون کے حوالے سے فکرمند ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اس کو کس طرح نافذ کیا جائے گا۔ بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اسدالدین اویسی نے شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے آل انڈیا مجلسِ اتحادالمسلمین کے اسدالدین اویسی کا کہنا تھا کہ مودی سرکاری بھارتی معاشرے میں تباہ کن نوعیت کی معاشرتی تقسیم لانا چاہتی ہے۔مودی سرکار نے بظاہر ووٹ بینک کو مضبوط بنانے کے لیے ایک خصوصی قانون متعارف کرایا ہے جس کا بنیادی مقصد چند سرحدی ریاستوں میں آباد ایسے مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے جن کے پاس اپنی شہریت کے باضابطہ اور روایتی ثبوت موجود نہیں۔


