محکمہ تعلیم بلوچستان کی نااہلی، کوہلو میں سرکاری درسی کتب بازار میں فروخت ہونے لگیں
کوہلو(یو این اے )کوہلو میں محکمہ تعلیم کے عجیب کارنامے منظر عام پر آنے لگے ۔ محکمہ تعلیم کی کتابیں اسکولوں کے بجائے شہر میں فروخت ہونے لگے کوہلو میں تعلیمی محکموں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ مقامی ٹال میں ایک درجن سے زائد کتابیں فروخت کی گئی ۔وزیر اعلی بلوچستان کی ہنگامی اقدامات کے دعوں کے برعکس محکمہ تعلیم کے آفیسران خواب خرگوش کی نیند سورہے ہیں ۔ ضلع کے مختلف تحصیلوں اور اسکولز میں تاحال سال 2024 کی کتابیں نہیں پہنچ سکی۔شہر کے وسط میں واقعے گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول کے بچے تدریسی نصاب کتابوں سے محروم ہیںگورنمنٹ ماڈل ہائی سکول کے بچوں نے مقامی صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تدریسی نصاب سے محرومی کے باعث تعلیم سے قاصر ہیں مذکورہ کتابیں سرکاری سکولوں کے بچوں کو مفت دی جاتی ہیں ۔ والدین نے” ناٹ فار سیل” کتابیں فروخت کرنے پر تشویش کااظہار کیاہے ۔


