اسرائیلی بمباری سے12 فلسطینی جاں بحق، بھوک کا جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ، اقوام متحدہ

مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ کے خلاف جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ پرہجوم فلسطینی غزہ کی پٹی خاص طور پر شمال میں بہت سے لوگوں میں قحط کے پھیلاﺅ کے بین الاقوامی انتباہات کے بعد اقوام متحدہ نے اسرائیل پرسخت تنقید کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے زور دیا کہ اسرائیل غزہ میں بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اس پر یقین کرنے کی منطقی وجوہات ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا اگر اسرائیل کا ایسا کرنے کا ارادہ ثابت ہو جائے تو یہ معاملہ جنگی جرائم کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کے کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی آمد میں کمی یا رکاوٹ ڈالنے کا بڑا ذمہ دارہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی صورتحال اس قدر افسوسناک ہے کہ اس کے لیے فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیںصحت کے حکام نے بتایا کہ غزہ کے رفح میں ایک گھر کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔قبل ازیں وزارتِ صحت نے اطلاع دی کہ 7اکتوبر سے اب تک غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائی میں کم از کم 32,552 فلسطینی جاں بحق اور74,980زخمی ہو چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں