امریکی انتظامیہ اسرائیل کو مزید جنگلی اسلحہ و طیارے فروخت کرنے کا ممکنہ جائزہ لینے لگی
واشنگٹن(این این آئی) امریکی جوبائیڈن انتظامیہ اسرائیل کو مزید جنگی طیارے اور جدید میزائلوں سمیت دوسرا جنگی اسلحہ فروخت کرنے کی ممکنہ صورتوں کا جائزہ لے رہی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کانگریس کے ایک ذریعے اور اس معاملے سے جڑے ایک دوسرے ذریعے نے کہاہے کہ اس تجویز کی حتمی منظوری ابھی امریکی انتظامیہ کی طرف سے دیے جانے کا انتظار ہے۔ تاہم جوبائیڈن انتظامیہ اس رپورٹ سے بھی پہلے یہ عندیہ دے چکی ہے کہ وہ اسرائیل کو مزید اسلحہ دینے کو مائل ہے۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ 50 ‘ایف 15 ‘ جنگی طیاروں کی فراہمی کا ایک معاہدہ متوقع ہے۔ ان ‘ایف 15 طیاروں ‘کی مالیت 18 ارب ڈالر سے زائد ہو گی۔ علاوہ ازیں دوسرے جنگی ہتھیاروں میں میڈیم رینج کے جدید میزائلوں کی ترسیل کا بھی امکان ہے جو فضا سے فضا میں کارروائی کر سکتے ہوں۔امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اربوں ڈالر مالیت کے بموں اور جیٹ طیاروں کی اسرائیل کو فراہمی کے فیصلے کے بعد یہ خبریں سامنے آئی ہیں۔ اہم بات ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بظاہر خفگی چل رہی ہے ، نیز جوبائیڈن انتظامیہ بظاہر رفح پر اسرائیلی جنگی حملے کی سخت مخالف کے طور پر خود کو پیش کرتی ہے۔امریکی جریدے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اسلحے کے اس معاہدے میں 2000 کی تعداد میں ‘ایم کے 842000 ‘قسم کےبم شامل ہوں گے جبکہ 500 کی تعداد میں ‘ ایم کے 82500 بم بھی ڈیل میں شامل ہوں گے۔اسرائیل کے لیے امریکی اسلحے کی یہ فراخ دلانہ فراہمی ان حالات میں جاری ہے جب امریکی حکام اسرائیل کو رفح پر امکانی حملے کے سلسلے میں پبلک مقامات پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل اور اس کی فوج کو جدید ترین اور مہلک ترین جنگی ہتھیاروں کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔


