نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ
اداریہ
پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالتے ہی کہناشروع کر دیا تھا نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں تبدیلی کی ضرورت ہے صوبوں کو ان کا حصہ دینے کے بعد اتنی رقم نہیں بچتی کہ مرکزتنخواہوں کی ادائیگی کے بعد کوئی ترقیاتی کام کر سکے۔اس مسئلے کو حل کرنا چاہیئے۔وفاقی حکومت نے جیسے ہی این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم کی بات شروع کی اپوزیشن نے وفاق پر الزام لگایا کہ وفاق 18ویں ترمیم ختم کرنا چاہتا ہے۔ صوبہ سندھ نے شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ 18ویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وفاق کو دھچکا لگے گا۔پی ٹی آئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی اورآئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہے جبکہ پی ٹی آئی کے پاس ایوان میں سادا اکثریت بھی نہیں۔بجٹ کی منظوری کے وقت اتحادی پارٹیاں اپنے معاہدے اٹھا کر پریس کانفرنسز میں گلے شکوے پیش کرنے لگتی ہیں۔بعض اتحادیوں کی طرف سے حکومت سے علیحدگی کی صدائیں بلند ہوتی ہیں لیکن بجٹ پر ووٹنگ کے دن حکومتی ارکان کی تعداداپوزیشن کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی بناء پر بجٹ منظور ہوجاتا ہے۔اگرچہ حکومتی ووٹ قومی اسمبلی کے مجموعی ارکان کی تعدادکا51فیصد نہیں ہوتے۔لیکن آئین میں ترمیم کے لئے دوتہائی اکثریت درکار ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامناہے۔سینیٹ میں وہ اکثریت سے محروم ہے اس لئے اسے قانون سازی کے لئے مطلوبہ ووٹ نہیں ملتے۔یہی منظر اگلے روز سینیٹ میں دیکھا گیا جب این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم کے لئے حکومتی تحریک 17کے مقابلے میں 25ووٹوں سے مسترد ہو گئی۔اس موقع پر سینیٹ میں اراکین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم کی تحریک پیش کرتے وقت سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ 18ویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں کہ اس پر بحث نہ کی جائے تاہم نہیں اپوزیشن کو ہم خیال بنانے میں کامیا بی نہیں ہوئی۔
شائد پی ٹی آئی کی حکومت تاحال یہ حقیقت نہیں سمجھ سکی کہ 18آئینی ترمیم کی منظوری ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے دی ہے۔ ایوان میں اس پر بحث کا مرحلہ نہیں آیاکہ ایوان سے باہر تمام پارٹیوں کا اتفاق حاصل کر لیا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ آئین میں ترمیم کی جا سکتی ہے اور18ویں ترمیم کے بعد بھی آئین میں ضرورت کے مطابق متعددترامیم ہو چکی ہیں۔آئندہ بھی آئین میں ترامیم ہوں گی۔لیکن 18ویں ترمیم کو دیگر ترامیم جیسا سمجھنا درست نہیں۔خصوصاً آئین کے آرٹیکل160کی ذیلی شق3 اس لئے حساس ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ گزشتہ سال دیئے گئے حصے سے کم نہیں ہو گا۔ وفاق کی بنیادی ضرورت یہی ہے کہ صوبے اپنے حصے میں کمی پر راضی ہو جائیں۔ یہ کام ناممکن نہیں لیکن صوبوں کو سرکاری حکمنامے کے ذریعے اس مشکل کام پر راضی کرنا ممکن نہیں۔سب سے بڑی مزاحمت صوبہ سندھ سے کی جائے گی۔یہاں پہلے ہی پی ٹی آئی اور پی پی پی کے درمیان عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر ایک گرما گرم جنگ جاری ہے۔روزانہ کی بنیادوں پر دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جارہی ہے۔شائد یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جائے کم از کم پی ٹی آئی یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جانے کے لئے پرعزم ہے۔ معاملہ پیچیدہ ہے۔حکومت جن صفحات کو قومی اسمبلی میں پڑھ کر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان پر چار وفاقی اداروں کے دستخط ہونے کے معنی یہ ہیں کہ صوبائی اداروں نے بوجوہ ان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا سب سے بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس میں پی پی پی کے رہنماؤں کے نام شامل تھے مگر سندھ حکومت کی پیش کردہ جے آئی ٹی رپورٹ پر تمام ممبران کے دستخط موجود ہیں۔سپریم کورٹ اگر مناسب سمجھے گی تو اس الجھے ہوئے معاملے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کرے گی ورنہ چند دن کے شور شرابے کے بعد یہ معاملہ ماضی کا حصہ بن جائے گا۔
ادھر متنازعہ رپورٹ کے مرکزی کردار عذیر بلوچ نے دفعہ 164کے تحت میجسٹریٹ کے روبرو دیئے گئے بیان کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اس طرح حکومتی دعوے کوٹھیس پہنچی ہے۔چونکہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے دیکھنا ہوگا کہ استغاثہ اس ضمن میں ٹھوس شواہد پیش کرتا ہے یا کمزور شواہد پیش کرکے کیس کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انکار کے بعد معاملہ پیچیدہ تر ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اندازے غلط بھی ہو سکتے ہیں۔عموماً یہی دیکھا گیا ہے کہ جس معاملے میں ضرورت سے زیادہ شور مچایا جاتا ہے وہ عدالت میں ثابت نہیں کیا جاتا۔ابھی پاکستان میں ادارے اتنے مضبوط نہیں ہوئے کہ عام آدمی نتائج سے مطمئن ہو۔یہاں سب کچھ ممکن ہے۔صوبائی حکومت کا خیال ہے کہ عذیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ پر شور مچانے کا مقصد یہ دکھائی دیتا ہے کہ وفاق 18 ویں ترمیم میں اپنی پسند کی ترامیم لانے کے اسے دباؤکے طور پر استعمال کرے۔ان حالات میں پی ٹی آئی کواین ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے کسی عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے۔اگر این ایف سی ایوارڈ میں کسی تبدیلی کی جائز ضرورت موجود ہے تو اسے اپوزیشن کے سامنے رکھا جائے۔اپوزیشن ملکی معاملات سے باخبر ہے، حکومت کی جائز مشکلات دور کرنے میں حکومت کا ساتھ دے سکتی ہے مگر حکومت یاد رکھے دباؤ کی پالیسی نقصان دہ ثابت ہوگی۔


