اسرائیلی حملوں کو چھ ماہ مکمل، غزہ میں غزائی قلت، انفرا سٹرکچر تباہ، 33 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق

غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک)عرب میڈیا کے مطابق غزہ جنگ21ویں صدی کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگوں میں سے ایک بن چکی ہے، اس جنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ غزہ کی 17 لاکھ آبادی (کل آبادی کا 70 فیصد) کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ تفصیلات کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کو 6 ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں خوراک سمیت بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ بنیادی شہری انفرا اسٹرکچر بھی تباہ ہوگیا ہے، عرب میڈیا کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 33 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 13 ہزار سے زائد تعداد بچوں کی ہے، اس جنگ کے نتیجے میں 11 لاکھ فلسطینی شہریوں کوخوراک کے عدم تحفظ کا سامنا ہے جبکہ دو سال سے کم عمر کے 31 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔علاوہ ازیں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی70 فیصد آبادی بے گھر ہوئی، ان حملوں میں غزہ کی رہائشی عمارتوں میں سے 60 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک غزہ کے 90 فیصد اسکول بھی تباہ ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کے 36 اسپتالوں میں سے صرف 10 اسپتال کام کر رہے ہیں، اسرائیلی حملوں میں 227 مساجد جاں بحق اور 3 گرجا گھر بھی تباہ ہو چکے ہیں، اسرائیلی فوج کے حملوں میں مجموعی طور پر غزہ کی نصف سے زائد تعمیرات تباہ ہو چکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں