بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ملیریا اور ڈینگی کا پھیلاﺅ، حکومت مناسب اقدامات نہ کرسکی

حب (نمائندہ انتخاب) محکمہ صحت بلوچستان نے صوبے کے مختلف اضلاع میں ملیریا اور ڈینگی کے پھیلاﺅ اور اسکے روک تھام و کنٹرول کے حوالے سے ایک ایڈوائزی جاری کی ہے جسکے مطابق محکمہ صحت بلوچستان نے دیگر شراکت داروں کی مدد سے ملیریا اور ڈینگی کی روک تھام اور کنٹرول کیلئے اہک ریسپانس پلان تیار کیا گیاہے تاہم ضلع حب کے مختلف شہروں اور مضافاتی علاقوں میں محکمہ صحت بلوچستان کی ڈینگی اور ملیریا بخار کے حوالے سے جاری کی گئی ایڈوائزی اور کنٹرول کیلئے ریسپانس کے اقدامات اب تک صرف سرکاری فائلوں اور سرکاری اسپتالوں میں ایک پینا فلیکس بینر تک محدود ہیں صفائی ستھرائی کے ناقص اقدامات تالابوں اور جوہڑوں میں کھڑے پانی میں مچھروں کی افزائش نسل سے گزشتہ کئی ماہ سے حب وندر گڈانی کے شہروں اور مضافاتی علاقوں میں ملیریا اور ڈینگی کے پھیلاﺅ میں کافی حد تک تیزی آئی ہے ایک محتاط سروے رپورٹ کے مطابق اب تک ڈینگی کے درجنوں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ دوسری جانب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی جانب سے اس حوالے سے جاری ایڈوائزی کے تحت حب کے سب سے بڑے سرکاری 50بیڈ ڈ جام غلام قادر گورنمنٹ اسپتال میں مذکورہ ایڈوائزی کا ایک پینا فلیکس اسپتال کے شعبہ حادثات کی دیوار پر آویزاں کیا گیا ہے نہ تو کوئی آگاہی مہم چلائی جارہی ہے اور نہ ہی جراثیم کش مچھر مار اسپرے کیا جارہا ہے پورا شہر گندگی سے بھر اپڑا ہے سیوریج کا پانی سڑکوں گلی محلوں میں تالاب بن کر کھڑا ہے حب شہر میں صفائی ستھرائی تو دور کی بات جام غلام قادر اسپتال میں صفائی ستھرائی کی حالت انتہائی گھمبیر ہے اسپتال انتظامیہ کا سوئپرز نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے حالانکہ سوئپرز کو اجرت پر رکھنے کے حوالے سے وسائل بھی دستیاب ہیں لیکن وہ وسائل کہاں خرچ کئے جارہے ہیں کوئی اتہ پتہ نہیں اسپتال میں مچھروں کی بھر مار ہے صفائی ستھرائی کی پر عدم توجہی کی وجہ سے وہاں علاج ومعالجہ کیلئے آنے والے مریض اور دیگر افراد کو پریشان ہوتے ہیں لیکن وہاں پر رہائش پذیر اسپتال کا اسٹاف اور ڈاکٹرز بھی نالاں نظر آتے ہیں اسپتال کا رخ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دن ہو رات اسپتال میں آوارہ کتوں کے غول کے غول گھومتے پھر تے دکھائی دیتے ہیں اور لوگوں کو کتوں کی کبڈی کے نظارے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں