بلوچستان حکومت نے غیر ملکی اشیا کی اسمگلنگ کا نوٹس لے لیا، گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر سرگرمیاں بحال
حب (رپورٹ: عزیز لاسی) ایران سے خام لوہے کی قانونی اور غیر قانونی درآمد واسمگلنگ، ایشیا کی تیسری بڑی گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کا پہیہ جام پر روزنامہ انتخاب اور انتخاب آن لائن کی رپورٹ پر اعلیٰ سطحی نوٹس وفاقی حکومت FBRاور عسکری قیادت کی جانب سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والی اشیاءکی اسمگلنگ کے خلاف سخت کاروائی کے احکامات بلوچستان کسٹمز کو سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت ایرانی خام لوہے کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر اور اہلکاورں میں کھلبلی مچ گئی ایرانی خام لوہے کی اسمگلنگ میں کسی حد تک کمی آنے کے بعد گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی رونقیں بحال ہونا شروع ہو گئیں اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ ایران سے زمینی اور سمندری راستے سے خام لوہے کی جو اسمگلنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ ملکی پیداوار کا کل 10فیصد تھا جس سے ملکی معیشت کو سالانہ 25ارب روپے کا نقصان پہنچا رہا تھا ایران سے خام لوہے کی قانونی اور غیر قانونی درآمد کی وجہ سے بلوچستان کے ساحلی شہر گڈانی کے سمندر کے ساحل پر قائم ایشیا کی تیسری بڑی شپ بریکنگ یارڈ کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا جس سے نہ صرف بیروزگاری کی ایک لہر آئی بلکہ وفاقی حکومت FBRکسٹم کو سالانہ 12سے15سو کروڑ روپے اور حکومت بلوچستان کو کروڑوں روپے ٹیکس کی مد میں ملنے والا ریونیو کا سلسلہ بھی معطل ہو کر ہ گیا ذرائع بتاتے ہیں کہ ایران سے خام لوہے کی غیر قانونی اور قانونی درآمد میں ملوث عناصر ایک طرف کسٹم اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے بلٹی (وزن) میں ہیر پھیر تو دوسری طرف اسمگلنگ کی کھلی چھوٹ دیکر نہ صرف پاکستان کی شپ بریکنگ یارڈ انڈسٹری کو تباہ و برباد کر چکے تھے بلکہ اس صنعت سے ملکی خزانے کو ملنے والی ایک خطیر رقم سے بھی محروم کر کے اپنی جیبیں بھر رہے تھے کے حوالے سے روزنامہ انتخاب اور انتخاب آن لائن نے ایک مفصل رپورٹ شائع اور نشر کی جس پر اعلیٰ سطح پر نوٹس لیکر نہ صرف وفاقی حکومت FBRاور عسکری قیادت کی جانب سے ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ اسمگلنگ پر سختی کے احکامات کے بعد بلوچستان کسٹمز کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر کسی کسٹم چیک پوسٹ سے ایرانی خام لوہے کی قانونی درآمد کی بلٹی (وزن) میں ہیر پھیر کر کے ٹیکس چوری میں اور اسمگلنگ میں کسی بھی سہولت کاری کی شکایت سامنے آئی تو سخت کاروائی کی جائے گی ذرائع بتاتے ہیں کہ ان ہدایات اور سختی کے بعد پاک ایران اور افغان بارڈر سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں قائم چیک پوسٹوں پر کسی حد تک سختی کی جاری ہے تاہم سختی کی وجہ سے نہ صرف اسمگلنگ اور بلٹی میں ہیر پھیر میں ملوث عناصر اور سہولت کاروں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اس قسم کے عناصر نے نت نئے طریقوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے جس میں کسٹم کی مبینہ غیر قانونی چیک پوسٹوں اور وہاں پر روزانہ اجرت پر غیر متعلقہ سول افراد کو بٹھا ناشامل ہے تاہم ایرانی خام لوہے کی قانونی اور غیر قانونی درآمد میں کمی آنے کے بعد گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی رونقیں ایک بار پھر سے بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں اور پچھلے 6ماہ کے دوران دو درجن سے زائد مختلف ممالک سے خریدے گئے ناکارہ بحری جہاز وں کو اسکریپ کرنے کیلئے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے مختلف پلاٹس پر لنگر انداز کیا جاچکا ہے جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ ملکی خزانے کو ٹیکسز کی مد میں ریونیو کی ادائیگی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جسے گڈانی شپ بریکنگ ہارڈ میں کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر رزگار سے وابستہ طبقات نے خوش آئند قرار دیا ہے۔


