چین کے ساتھ مختلف اور سخت انداز اپنانا ناگزیر ہے، پومپیو
امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ چین تعلقات کو تقریباً 50 برس ہو گئے ہیں، لیکن اب یہ بہتری کی جانب گامزن نہیں دکھائی دیتے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کے سلسلے میں ”مختلف اور سخت انداز اپنانا ناگزیر ہو گیا ہے”۔
نکسن فاؤنڈٖیشن صدر رچرڈ نکسن کے نام سے موسوم ہے، جنھوں نے 1972ء میں بیجنگ کا تاریخی دورہ کیا تھا جب ان کہ چیئرمین ماؤ اور وزیراعظم چو اِن لائی سے ملاقاتیں ہوئی تھیں؛ جس کے بعد چین کو اقوام عالم کی نام نہاد قربت سے متعارف کرایا گیا۔
پومپیو کے بقول، ”جس طرح سے ان کے ساتھ ہم نے مراسم رکھے ہیں، اس کے نتیجے میں چین کے اندر اس سطح کی تبدیلی نہیں آئی، جسے لانے کی صدر نکسن کو توقع تھی”۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے رابطوں کے نتیجے میں امریکہ کی نسبت چین کو زیادہ فائدہ ہوا ہے؛ اور یہ کہ ”چین نے ان بین الاقوامی ہاتھوں کو کاٹ ڈالا ہے جو اسے کھانا پیش کرتے ہیں”۔
جمعرات کی پومپیو کی یہ تقریر اس سلسلے کی چوتھی کڑی تھی، جو انتظامیہ کے حکام چین پر دیتے رہے ہیں، جس کا مقصد پومپیو کی رائے کو اجاگر کرنا ہے جس میں وہ چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو عدم توازن کا شکار قرار دیتے ہیں۔
اس سے قبل، قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے چین کے سیاسی نظام کو معتدل بنانے کی کوششیں؛ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر ورے کی جانب سے معاشی جاسوسی اور املاک دانش کی چوری کا معاملہ؛ اور اٹارنی جنرل، ولیم بَر نے چین کی ‘معاشی یلغار’ کو نمایاں کیا تھا، جس کی کوشش وہ امریکہ کے واحد سپر پاور کی جگہ لینے کے لیے کر رہا ہے۔
جمعرات کو پومپیو نے یاد دلایا کہ نکسن نے ایک بار کہا تھا کہ انھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ چین کی صورت میں ”ایک تباہ کُن بھوت کی رونمائی” کی گئی ہے۔ اور، امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارتکار نے کہا، ”واقعی ایسا ہی ہے”۔
انھوں نے کہا کہ آزاد اور کھلے معاشرے کا فائدہ لیتے ہوئے، چین اعلیٰ تعلیم کے حصول کے نام پر پروپیگنڈا کرنے والوں کو امریکہ کے کالجوں، تحقیقی مراکز اور اخباری کانفرنسوں میں بھیجتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور املاکِ دانش کی چوری سے متعلق امریکی رپورٹوں پر چین خاموشی اختیار کر لیتا ہے، جب کہ ہم پھر بھی اس کے ساتھ خصوصی معاشی سلوک روا رکھتے ہیں۔ چین امریکیوں سے ان کے روزگار کے مواقع چھین رہا ہے۔
منگل کے روز امریکہ نے چین سے کہا کہ وہ ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں اپنا قونصل خانہ بند کر دے، تاکہ ”امریکی املاکِ دانش اور امریکیوں کے نجی رازوں کی اطلاعات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے”۔


