حیدرآباد، افغان مہاجرین کی آبادکاری اور انہیں واپس نہ بھیجنے کیخلاف احتجاجی کیمپ قائم
حیدرآباد:عوامی جمہوری انٹلیکچوئل فورم کی جانب سے سندھ میں تارکین وطن کی آبادکاری اور انہیں اپنے ممالک میں واپس نہ بھیجنے کیخلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے فورم کے رہنماؤں ابرار قاضی، امان اللہ شیخ، علی شیر وسان، اعجاز سومرو اور دیگر کی قیادت میں احتجاجی کیمپ قائم کیا گیاجس میں عوامی تحریک کے نور احمد کاتیار، عوامی ورکرز پارٹی کے بخشل تھلو،جئے سندھ محاذ کے خالق جونیجو اور دیگر رہنماؤں نے یکجہتی کے طور پر شرکت کی، اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک حکمرانوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے سندھ کو عالمی یتیم خانہ بنا دیا ہے اور دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ لاکھوں افغان مہاجرین کو کراچی میں لا کر پورے سندھ میں پھیلا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے ہر کاروبار سمیت سرکاری نوکریوں میں افغان مہاجرین بھرتی ہو چکے ہیں اور سیاسی اور سماجی حقوق بھی انہیں دیئے گئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے معاہدے کے مطابق افغان مہاجرین کو ایک کیمپ میں رکھ کر ان کی رجسٹریشن کرکے انہیں وہاں محدود کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہے جو کہ پوری نہ کرنے کے سبب افغان مہاجرین پورے سندھ میں پھیل چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ عالمی معاہدے کے مطابق افغان مہاجرین کو 30 جون 2020 ء کو اپنے ملک واپس جانا تھا لیکن وفاقی اور سندھ حکومت اپنے مفادات کی خاطر انہیں سندھ سمیت پورے ملک سے واپس نہیں بھیجا گیا ہے اور افغان مہاجرین ملک خصوصا سندھ دھرتی،معیشت اور روزگار پر بوجھ ہیں جبکہ افغان مہاجرین کی آباد کاری کے سبب دھرتی کے وارث بیروزگاری اور بدامنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور سندھی اقلیت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔سندھ یوتھ فورم حیدرآباد کی جانب سے سرکاری نوکریاں نہ ملنے اور نوکری کی عمر کی حد میں اضافہ نہ کئے جانے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اس موقع پر ندیم رند، احسان کھوسو،ذوالفقارمہر اور دیگر نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے صوبے کے بے روزگار نوجوانوں کے لئے 60 ہزار نوکریاں جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کئی سال گزر جانے کے باوجود سندھ میں سرکاری نوکریوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ سندھ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باوجودرواں سال 2020-21 کے بجٹ میں بھی پورے سندھ کے لئے صرف14 14 خالی جگہوں کی نشاندہی کرکے نوکریوں کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ سندھ کے نوجوانوں کے ساتھ نا انصافی ہے، انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وہ سرکاری نوکریوں کے لئے اہل نہیں رہ سکیں گے۔جئے سندھ قومی پارٹی کی جانب سے دریائے سندھ پر ڈیم سمیت دیگر پانی منصوبے بنانے کے خلاف عاشق اوڈھ،بخشل تھلواور فرید رتڑ سمیت دیگر کی قیادت میں حیدرآباد پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا، اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پر ڈیم بنا کر سندھ کوبنجر بنانے کی سازش کی جارہی ہے جبکہ سکرنڈ اور جوہی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے،انہوں نے کہاکہ معاہدوں کے مطابق پانی نہ ہونے کے سبب سندھ کا ڈیلٹا تباہی کی جانب گامزن ہے اور توانائی کے بحران کو حل کرنے کے بجائے حکمران ڈیم بنانے پر اس لئے زور دے رہے ہیں تاکہ میگا پروجیکٹوں کی آڑ میں کرپشن اور پانی چوری کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی چشمہ جہلم لنک کینال اور اور دیگر ڈیم بنا کر موسمی نہروں کا مستقبل ختم کیا گیا اور سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالا گیا، لہذا اب سندھ اس طرح کے کسی بھی پروجیکٹ کو قبول نہیں کرے گا۔


