چیف جسٹس کی تعیناتی،اسپیکر قومی اسمبلی کے خط پر پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام سامنے آنے لگے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت کے دستخط کرنے کے ساتھ ہی 26 ویں آئینی ترمیم لاگو ہونے کے بعد چیف جسٹس پاکستان کی تعیناتی کیلٸے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل شروع ہوگیا۔ اس ضمن میں دو بڑی اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔پہلی یہ کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ اورپارلیمانی لیڈرسے کمیٹی کیلئے نام مانگ لیے جبکہ 12 رکنی کمیٹی میں 8 ممبران قومی اسمبلی اورچارسینیٹ سے ہوں گے۔تیزی سے رونما ہونے والی صورتحال کے بعد اب پیپلزپارٹی نے پارلیمانی کمیٹی کے لئے قومی اسمبلی سے دو اور سینٹ سے ایک نام دے دیا۔ذرائع کے مطابق اسپیکر کے خط کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی سے راجہ پرویز اشرف اور سید نوید قمر کا نام دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر دونوں میں سے کسی ایک نام کی منظوری دیں گے جبکہ پیپلزپارٹی نے فاروق ایچ نائیک کا نام چیئرمین سینٹ کو بھجوادیا۔ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر نے قائد حزب اختلاف عمر ایوب سے بھی نام مانگ لئے ہیں جبکہ عمر ایوب کی طرف سے نام بھجوانے میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔ نام بھجوانے میں تاخیر کی صورت میں اسپیکر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے نام کا انتخاب کریں گے۔خیال رہے کہ آج ہی صدر مملکت کی جانب سے آئینی ترامیم کے بل پر دستخط کیے گئے اور آج ہی اسپیکر قومی اسمبلی نے چئیرمین سینیٹ کو خط لکھا جس میں پارلیمانی کمیٹی کیلئے 4 سینیٹرزکے نام مانگے ہیں۔اسپیکر کی جانب سے ن لیگ، پیپلزپارٹی، سنی اتحاد کونسل اورایم کیو ایم سمیت دیگر پارلیمانی لیڈرزکوخطوط لکھ گئے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی 12 ارکین پرمشتمل ہوگی جس میں آٹھ ارکان قومی اسمبلی ورچارسینیٹ سے ہونگے۔ کمیٹی تشکیل کے بعد وزارت قانون سے تین سینٸرججزکا پینل طلب کیا جاٸیگا۔صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ آئینی ترمیم بل 2024 ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں