ماہ رنگ بلوچ نہیں، بلوچ یہ آپ کے سامنے کھڑا ہے، سرفراز بگٹی
ملتان ،کوئٹہ(یو این اے ) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کسی بلوچ نے پنجابی بھائی کو شہید نہیں کیا ہے بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانی معصوم لوگوں کو شہید کیا ہے جو مقدس خون بہا ہے معصوم لوگوں کا اس کے ایک قطرے کا حساب لیا جائے گادہشت گردی کے خلاف انشااللہ تعالی مضبوط ہو کے بحیثیت قوم اس لڑائی کو لڑیں گے مہارنگ بلوچ نہیں ہے بلوچ یہ آج اپ کے سامنے کھڑا ہے ان خیالات کا اظہارملتان کے علاقے شجاع آباد میں سانحہ پنجگور کے لواحقین کو امدادی چیک تقسیم کے موقع پر کیا اس موقع پر ایم این اے موسی گیلانی ،سلیم کھوسہ،چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر شریک تھے میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پنجاب کی دھرتی میں آ کے اپ سے یہ بات دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ یہ کسی بلوچ نے کسی سرائیکی بھائی کو کسی پنجابی بھائی کو شہید نہیں کیا ہے بلکہ دہشت گردوں نے ہمارے پاکستانی معصوم لوگوں کو شہید کیا ہے اللہ کا فضل ہے کہ آج پنجاب کے لوگوں نے بلوچستان کے لوگوں نے اور باقی پاکستان کے لوگوں نے اس سازش کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی اس طرح کی سازشیں جو ملک عزیز کے خلاف ہوں گی ان کو ناکام بنایا جائے گا میں بڑے یقین کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ ہم بلوچوں کی جو روایات ہیں وہ روایات یہ بالکل بھی نہیں ہیں جیسے گیلانی صاحب نے کہا کہ ہم بڑے مہمان نواز لوگ ہیں یہ چند دہشتگرد جنہوں نے نہ کوئی بلوچی روایات کا خیال رکھا ہے نہ کوئی بلوچ کلچرل کا خیال رکھا ہے نہ ہماری ثقافت یہ ہے ہم تو اپنے مہمانوں کے لیے جان دینے والے لوگ ہیں یہ دہشت گردوں کا کوئی قوم قبیلہ نہیں انہوں نے معصوم پاکستانیوں کو شہید کیا اور میں یہ بتاتا چلوں اپ کو کہ الحمدللہ اللہ کے فضل و کرم سے جن لوگوں نے یہ واقعہ کیا ان میں سے کچھ پکڑے جا چکے ہیں اور باقی بھی انشااللہ ہمارے قانون کی گرفت سے بچیں گے نہیں اور یہ جو مقدس خون بہا ہے معصوم لوگوں کا اس کے ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا اور ان لوگوں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائے گا جنہوں نے معصوم لوگوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ شہید کیا ہے یہ کون لوگ ہیں یہ وہاں اتے ہیں ہمارا ہاتھ بٹاتے ہیں ہماری ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں کتنے بلوچ قبائل ہیں جو یہاں پر اباد ہیں کتنا عرصہ جو ہے پنجاب کے باقی جگہوں پر اباد ہیں اسی طرح پنجاب کے لوگ وہاں پر ہیں یہی بیسک جو نرو سسٹم ہے پاکستان کا وہ یہی ہے اور اس کو انشااللہ تعالی ناکام نہیں ہونے دیں گے ہم ایسا انوائرمنٹ پیدا کریں گے کہ جو بھی شہری پاکستان کا وہاں پر ا کے کاروبار کرنا چاہے گا انشااللہ تعالی وہ دن دور نہیں ہے کہ جہاں پہلے امن کے امن تھی امن تھا انشااللہ تعالی ایسا ہی امن دوبارہ جو ہے وہ ہوگا اور پاکستان جو ہے وہ انشااللہ تعالی بھلے گا پھولے گا اور بلوچستان جو ہے وہ اپنے پنجابی بھائیوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات میں سارے بلوچ قبائل جتنے بھی ہیں سب نے وہاں پر مذمت کیا ہےکی تمام سیاسی پارٹیز پنجگور کے وہ اس جگہ پر گئے جہاں جائے شہادت تین معصوم لوگوں کی وہاں پر جا کے انہوں نے اظہار تعزیت کیا اور تمام جماعتوں نے آج میرے ساتھ جس طرح یہاں پر اپوزیشن لیڈر موجود ہیں یہاں پر پی ایم ایل این کے لوگ موجود ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان کے لوگ تمام کے تمام لوگ اپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کر رہے ہیں اظہار یکجہتی کرنے ہیں اپ سے تعزیت کرنے ہیں اور اپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اپ کا غم ہمارا غم ہے اپ کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور اس دکھ کو انشااللہ تعالی ہم طاقت بنائیں گے اس غم کو طاقت بنائیں گے اور دہشت گردی کے خلاف انشااللہ تعالی مضبوط ہو کے بحیثیت قوم اس لڑائی کو لڑیں گے اور یہ لڑائی جو ہے وہ انشااللہ تعالی منطقی انجام کے وہ اس دن پہنچیں گے جس کے لیے ایک دہشت گرد بھی جو ہے وہ باقی رہے گا اخر میں میں ایک بار پھر گیلانی صاحب کا بڑا شکر گزار ہوں کہ پہلے دن جب یہ واقعہ ہوا ہے انہوں نے مجھے جس درد کے ساتھ ٹیلی فون کیا اور پہلے دن سے میں ان کے ساتھ کانٹیکٹ میں تھا انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر ہیلی کاپٹر ف وائڈ کیا جا سکے تو ہم نے صبح حکومت کا ہیلیکاپٹر بھی پرووائڈ کیا اور اج ان کی دعوت پہ ہم یہاں پر ائے اور یہ میرے ساتھ ٹویٹا سے تشریف لا رہے ہیں اور ہم نے یہی کوشش کی کہ یہ جو اظہار یکجہتی ہے یہ مل کے کرنا ہے اور بحیثیت قوم کرنا ہے تو اس میں کوئی ڈیوائڈ نہیں ہے کوئی تقسیم نہیں ہے ہم سب اکٹھے دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اور میں ا غلام صاحب اپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جتنے بھی شہدا ہیں جو بھی پنجاب میں شہید ہوئے ہیں بلوچستان میں پنجاب کے جو ہمارے بھائی ہیں اور جتنے بھی لوگ ہیں ان کے جتنے بھی بچے ہیں 16 سال تک حکومت بلوچستان ان کی ایجوکیشن کی ذمہ داری لیتی ہے انشااللہ تعالی ان کو پاکستان کے بہترین سکولوں میں جہاں وہ داخلہ لینے جائیں لینا چاہے وہاں پر ہم انشااللہ تعالی بچوں کو بھی اور بچیوں کو بھی صادق پبلک سکول بہاولپور میں بہت اچھا ہاسٹل ہے اپ کے علاقے سے نزدیک ہے ہم انشااللہ تعالی وہاں پر ہمارا ایک ایم او یو سائن ہوا ہوا ہے صدر پبلک سکول بہاولپور کے ساتھ وہاں ہم پنجاب کے بچوں کو انشااللہ تعالی تعلیم دلائیں گے اور 16 سال تک وہ ڈاکٹر بننا چاہیں انجینیئر بننا چاہیں وہ لاہور بننا چاہیں جو شہدا کے بچے جہاں بھی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حکومت بلوچستان برداشت کرے گی اور انشا اللہ تعالی ان بچوں کو اپنی کفالت میں لیں گے ہم تاکہ ان شہدا کے بچوں کو ہم اعلی تعلیم دیںسکیں اور ان دہشت گردوں کو یہ میسج دے سکے کہ اپ تو یہ چاہتے تھے کہ ہمارے سکول ویران ہو ہمارے ہسپتال ویران ہو ہماری سڑکیں ویران ہوں وہ ویران نہیں ہوں گے اور انشااللہ یہاں کے بچے پڑھ لکھ کر بلوچستان میں ا کر خدمت انجام دیں گے ہے نہیں ہے کہ یہ میں اس کو کہتا ہوں انٹیلیجنس وار ہے اور را فنڈڈ لشکر جو ہے وہ اس کو ڈرائیو کر رہے ہیں اپ کو یاد ہوگا کہ جب گیلانی صاحب وزیراعظم تھے تو انہوں نے ہربل شیخ میں اس ڈوزیر پیش کیا تھا اور بعد میں پھر پریویس ٹورنمنٹ میں بھی یہ ڈوزیز جو ہیں وہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو دیے گئے ہیں اس طرح کے واقعات میں اور بلوچستان میں یہ جتنا ہم ویسٹ ہے اس انریسٹ میں ا تمام کے تمام جو کھرے ہیں وہ وار کی طرف جاتے ہیں اور وہی اس کو ری سٹیبلائز کرنا چاہتے ہیں ا اگر اپ کو میری بات سمجھ آئی ہے انہوں نے کہا کہ مہارنگ وہ بلوچ نہیں ہے بلوچ یہ آج اپ کے سامنے کھڑا ہے کہا گیا تھا کل کے ا کے سرکٹ ہاس میں فاتح کرے گا تو میں نے کہا نہیں سرکٹ ہاوس میں نہیں میں وہاں گھر پہ جاں گا جیسا علاقے میں وہاں جاں گا تو بلوچ روایات کے پاسدار ہمیں وہ دہشتگرد ہے اگر اپ میری بات سمجھیں میں ایک بار پھر ریپیٹ کرتا ہوں کسی بلوچ نے کسی پنجابی کو نہیں مارا دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کیا ہے دہشت گرد کی نہ کوئی قوم ہے نہ دہشت گرد کا کوئی قبیلہ ہے نہ دہشت گرد کا کوئی روایات ہیں تو دہشت گرد کو ایز ا دہشت گرد ٹریٹ کیا جائے اس کو بلوچ قوم سے نہ چڑھا جائے بلوچ قوم بڑی عظیم قوم ہے اور بلوچ قوم اور پنجابی قوم کے درمیان پٹھان قوم کے درمیان سرائیکی قوم کے درمیان صدیوں سے یہ جو ہے تعلقات ہیں صدیوں سے یہ روایتیں جو ہمارے بلوچ بڑے نواب بڑے سردار کی قبر جو ہے وہ یہاں پر ملتان میں موجود ہے تو ہمارے یہ جو تعلقات ہیں وہ صدیوں پرانے ہیں یہ کوئی دہشت گردوں کی کوئی قوم قبیلہ نہیں ہوتا یہ دیکھیے بلوچستان حکومت نے تمام جتنے لبرلز ہیں وہ چاہے جس بھی صوبے سے ہیں ان کی پروفائلنگ کر کے ان کی سکیورٹی کا جو ایک میکنزم ہے وہ ڈرائیو کیا ہے اور انشا اللہ تعالی ہماری پوری کوشش ہوگی کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں میں بتا رہا ہوں کہ ایک بھی بچے کا دن انشااللہ شہید کی جماعت ہے


