پنجگور سے متصل ایرانی سرحد سے سمگلروں کی آزادانہ آمد و رفت

کوئٹہ:کرونا وائرس پر قابو پانے کے لئے صوبائی حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، پنجگور سے متصل ایران بارڈر کے غیر روایتی راستوں سے اسمگلروں کی آزادانہ آمدورفت اور وہاں کی تیل منڈیوں سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں تیل بھرکر سوراب کے راستے خضدار قلات خضدار بیلہ اور جھل مگسی پہنچ رہی ہیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں، عوامی حلقوں کا سوراب پنجگور قومی شاہراہ پر بھی حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق ایک جانب کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پورے ملک میں ایک ایمرجنسی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے خصوصا متاثرہ ہمسایہ ملک ایران سے آمد و رفت کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے مگر دوسری جانب سوراب پنجگور قومی شاہراہ پر سو روپے بھتے کے عوض سرعام حکومت کیان بلند و بانگ دعووں کی دھجیاں بکھیری جارہی ہے مگر پوچھنے والا کوئی نہیں واضح رہے کہ پابندی کے باوجود پنجگور سے متصل ایران بارڈر پر غیر روایتی راستے نہ صرف بدستور کھلے ہیں بلکہ ان ہی راستوں کے زریعے اسمگلر روزانہ ہزاروں لیٹر ایرانی ڈیزل اور دیگر اشیا پنجگور پہنچارہے ہیں جہاں سے ہر صبح گاڑیوں میں بھر کر بسیمہ اور سوراب کے راستے صوبے کے مختلف شہروں خضدار قلات مستونگ بیلہ اور جھل مگسی منتقل کیا جارہا ہے، ملک میں اسکول عدالتیں دفاتر حتی کہ مذہبی تقریبات پر پابندی کے باوجود سو روپے بھتے کے عوض درجنوں چیک پوسٹوں سے ان گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دینا صوبائی حکومت کے بلند و بانگ دعوں پر سوالیہ نشان ہے، عوامی حلقوں نے ایران بارڈر کے غیر روایتی راستوں کی ناکہ بندی اور ان کے زریعے سوراب کے راستے صوبے میں تیل اسمگلنگ کے جاری عمل پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات اور ملوث انتظامیہ آفیسران کے خلاف تادیبی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

4 تبصرے “پنجگور سے متصل ایرانی سرحد سے سمگلروں کی آزادانہ آمد و رفت

  1. یہ ایک بھیانک صحافتی خیانت ہے، اس رپورٹ کو میں شبیراحمدلہڑی آج سوراب سے بحیثیت نیوز ایجنسی رپورٹر اپنے متعلقہ نیوز ایجنسی بیھج دیا ہے، مگر یہاں بجائے سوراب کے کوئٹہ ڈیڈلائن کرکے نشر کیا گیا ہے، امید ہے کہ اس خیانت کا اعتراف کرکے معذرت کی جائے گی

    1. محترم شبیر لہڑی صاحب آپ کا بہت شکریہ۔ انتخاب میں آپ کے سیاسی اور صحافتی بیانات کو شائع کیا گیاہے وہ بھی بغیر کسی پیڈ کے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہکہ روزنامہ انتخاب تمام خبر رساں اداروں سے منسلک ہے، مزید وضاحت اپنی ایجنسی سے کریں، انتخاب کے حوالے سے کوئی اعتراض ہو تو03138528918پر رابطہ کریں

  2. تسلی بخش جواب دینے پر شکریہ…مجھے علم ہے کہ روزنامہ انتخاب سمیت تمام اخبارات نیوز ایجنسیوں کے ساتھ منسلک اور ان سے مواد حاصل کرتے ہیں، مگر میرا مدعا یہ تھا کہ بجائے کوئٹہ کے سوراب لکھ دیا جاتا میری دانست کے مطابق عموماً جہاں سے رپورٹ یا خبر آتی ہے اسی اسٹیشن کے نام سے شائع کی جاتی ہے…صحافت کے میدان میں روزنامہ انتخاب کے مقام اور خدمات کا دل سے قدردان اور اس کی ترقی کے لئے دعا گو ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں